سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1377
Sunan Ibn Majah 1377
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
186: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي التَّطَوُّعِ فِي الْبَيْتِ
باب: گھر میں نفل پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَتَّخِذُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1377]
💡 وضاحت:
۱؎: گھر کو قبرستان بنانے کا مطلب یہ ہے کہ قبرستان کی طرح گھر میں بھی عدم عبادت والی ویرانی ماحول پیدا نہ کرو، بلکہ نفلی نماز گھر ہی میں پڑھا کرو تاکہ گھر میں بھی اللہ کی عبادت والا ایک پر رونق ماحول دیکھائی دے کہ جس سے بچوں کی تربیت میں بھی پاکیزگی کا اثر نمایاں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 52 (432)، التہجد 37 (1187)، صحیح مسلم/المسافرین 29 (777)، سنن ابی داود/الصلاة 205 (1043)، 346 (1448)، (تحفة الأشراف: 8142)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 214 (451)، سنن النسائی/قیام اللیل 1 (1599)، مسند احمد (2/6، 16) (صحیح)