سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1378
Sunan Ibn Majah 1378
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
186: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي التَّطَوُّعِ فِي الْبَيْتِ
باب: گھر میں نفل پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا أَفْضَلُ الصَّلَاةُ فِي بَيْتِي، أَوِ الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ؟، قَالَ: " أَلَا تَرَى إِلَى بَيْتِي مَا أَقْرَبَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَلَأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً".
عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : دونوں میں کون افضل ہے گھر میں نماز پڑھنا یا مسجد میں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میرے گھر کو نہیں دیکھتے کس قدر مسجد سے قریب ہے ، اس کے باوجود بھی مجھے فرض کے علاوہ نفلی نمازیں گھر میں پڑھنی زیادہ محبوب ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1378]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نوافل کا گھر میں پڑھنا زیادہ افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5327، ومصباح الزجاجة: 484)، وحم (4/342) (صحیح)