سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1263
Sunan Ibn Majah 1263
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
152: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ
باب: سورج اور چاند گرہن کی نماز کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَامَ فَكَبَّرَ فَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلتَ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ"، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا، فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد گئے ، اور کھڑے ہو کر «الله أكبر» کہا ، لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے صف لگائی ، آپ نے لمبی قراءت کی ، پھر «الله أكبر» کہا ، اور دیر تک رکوع کیا ، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا ، اور «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا ، پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قراءت کی جو پہلی قراءت سے کم تھی ، پھر «الله أكبر» کہا ، اور لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا ، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا ، اور چار رکوع اور چار سجدے مکمل کئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرنے سے پہلے سورج روشن ہو چکا تھا ، پھر آپ کھڑے ہوئے ، خطبہ دیا ، اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی جس کا وہ مستحق ہے ، پھر فرمایا : ” بیشک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، وہ کسی کی موت و پیدائش کی وجہ سے نہیں گہناتے ، لہٰذا جب تم ان کو گہن میں دیکھو تو نماز کی طرف دوڑ پڑو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1263]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الکسوف 4 (1046)، 5 (1047)، 13 (1058)، العمل في الصلاة 11 (1212)، بدأالخلق 4 (3203)، صحیح مسلم/الکسوف 1 (901)، سنن ابی داود/الصلاة 262 (1180)، سنن النسائی/الکسوف 11 (1476)، (تحفة الأشراف: 16692)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الکسوف 1 (1)، مسند احمد (6/76، 87، 164، 168)، سنن الدارمی/الصلاة 187 (1570) (صحیح)