سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 815
Sunan Ibn Majah 815
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
4: بَابُ : افْتِتَاحِ الْقِرَاءَةِ
باب: نماز میں قرات شروع کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَايَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: وَقَلَّمَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ عَلَيْهِ فِي الْإِسْلَامِ حَدَثًا مِنْهُ، فَسَمِعَنِي وَأَنَا أَقْرَأُ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1، فَقَالَ: " أَيْ بُنَيَّ إِيَّاكَ وَالْحَدَثَ، فَإِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَمَعَ عُمَرَ، وَمَعَ عُثْمَانَ، فَلَمْ أَسْمَعْ رَجُلًا مِنْهُمْ يَقُولُهُ، فَإِذَا قَرَأْتَ فَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2".
ابن عبداللہ بن مغفل اپنے والد عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے ایسا آدمی بہت کم دیکھا جس کو اسلام میں نئی بات نکالنا ان سے زیادہ ناگوار ہوتا ہو ، انہوں نے مجھے «بسم الله الرحمن الرحيم» ( بآواز ) بلند پڑھتے ہوئے سنا تو کہا : بیٹے ! تم اپنے آپ کو بدعات سے بچاؤ ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی ، لیکن میں نے ان میں سے کسی کو بھی «بسم الله الرحمن الرحيم» بآواز بلند پڑھتے ہوئے نہیں سنا ، لہٰذا جب تم قراءت کرو تو «الحمد لله رب العالمين» سے کرو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 815]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (244) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 407
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصلاة 66 (244)، سنن النسائی/الافتتاح 22 (909)، (تحفة الأشراف: 9667)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/85، 5/54، 55) (ضعیف) (سند میں یزید بن عبد اللہ بن مغفل مجہول الحال ہے)