سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1197
Sunan Ibn Majah 1197
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
126: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الضَّجْعَةِ بَعْدَ الْوِتْرِ وَبَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ
باب: وتر کے بعد اور فجر کی دو رکعت سنت کے بعد لیٹنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا كُنْتُ أُلْفِي أَوْ أَلْقَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَّا وَهُوَ نَائِمٌ عِنْدِي"، قَالَ وَكِيعٌ: تَعْنِي: بَعْدَ الْوِتْرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی اخیر رات میں پاتی تو اپنے پاس سویا ہوا پاتی ۱؎ ۔ وکیع نے کہا : ان کی مراد وتر کے بعد ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1197]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ وتر پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ جاتے، اور تھوڑی دیر آرام فرماتے پھر فجر کی سنتوں کے لئے اٹھتے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17715)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد 7 (1133)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (742)، سنن ابی داود/الصلاة 312 (1318)، مسند احمد (6/137، 161، 205، 270) (صحیح)