سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1196
Sunan Ibn Majah 1196
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
125: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ جَالِسًا
باب: وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ، يَقْرَأُ فِيهِمَا وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت وتر پڑھتے تھے ، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے ۱؎ اور ان میں قراءت کرتے ، جب رکوع کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہوتے اور رکوع کرتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1196]
💡 وضاحت:
۱؎: امام احمد کہتے ہیں کہ میں وتر کے بعد اس دو رکعت سے نہ منع کرتا ہوں، نہ میں اس کو پڑھتا ہوں، اور امام مالک نے اس کا انکار کیا ہے، نووی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں رکعتوں کو بیٹھ کر پڑھا، اس امر کو ظاہر کرنے کے لئے کہ وتر کے بعد نفل پڑھنا صحیح ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ ان کو نہیں پڑھا، اور قاضی عیاض نے ان حدیثوں کو قبول نہیں کیا، حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ شاید یہ مسافر کے لئے ہے کہ جب تہجد کے لئے جاگنے کی امید نہ ہو تو وتر کے بعد یہ دو رکعت پڑھ کر سوئے، جیسے ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر ایک تکلیف ہے، پھر جب کوئی تم میں سے وتر پڑھے تو دو رکعت پڑھ لے، اگر جاگے تو خیر ورنہ یہ دو رکعت اس کے لئے تہجد کے قائم مقام ہو جائے گی“، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17715ومصباح الزجاجة: 423)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 12 (691)، التہجد 22 (1159)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (738)، سنن ابی داود/الصلاة 316 (1340)، سنن النسائی/قیام اللیل 46 (1757)، مسند احمد (6/53، 81) (صحیح)