📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل (كتاب إقامة الصلاة والسنة) 🏷️ باب: باب: ڈر کی حالت میں نماز پڑھنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
151: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْخَوْفِ
باب: ڈر کی حالت میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَرَكَعَ بِهِمْ جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ حَتَّى إِذَا نَهَضَ، سَجَدَ أُولَئِكَ بِأَنْفُسِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ حَتَّى قَامُوا مُقَامَ أُولَئِكَ، وَتَخَلَّلَ أُولَئِكَ حَتَّى قَامُوا مُقَامَ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ، فَرَكَعَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلُونَهُ، فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ سَجَدَ أُولَئِكَ سَجْدَتَيْنِ، فَكُلُّهُمْ قَدْ رَكَعَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَجَدَت طَائِفَةٌ بِأَنْفُسِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، وَكَانَ الْعَدُوُّ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو صلاۃ خوف پڑھائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ رکوع کیا ، پھر سجدہ کیا ، اور اس صف نے سجدہ کیا جو آپ سے قریب تھی ، اور دوسرے لوگ کھڑے رہے ، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو ان لوگوں نے اپنے طور سے دو سجدے کئے ، پھر پہلی صف پیچھے آ گئی اور وہاں جا کر کھڑی ہو گئی ، جہاں یہ لوگ تھے ، اور درمیان ہی سے یہ لوگ آگے بڑھ گئے اور ان لوگوں کی جگہ کھڑے ہو گئے ، اور پچھلی صف ہٹ کر اگلی کی جگہ کھڑی ہو گئی ، اب پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب لوگوں کے ساتھ رکوع کیا ، اور آپ نے اور آپ سے قریبی صف نے سجدہ کیا ، جب یہ صف سجدے سے فارغ ہو گئی تو دوسری صف نے اپنے دو سجدے کئے ، اس طرح سب نے ایک رکوع اور دو سجدے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے ، اور ہر جماعت نے دو سجدے اپنے اپنے طور پر کئے ، اور دشمن قبلہ کے سامنے تھا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1260]
💡 وضاحت:
۱ ؎: پس یہاں اس کی ضرورت نہ تھی کہ ایک گروہ جائے اور دوسرا آئے صرف یہ ضروری تھا کہ سب لوگ ایک ساتھ سجدہ نہ کریں ورنہ احتمال ہے کہ دشمن غفلت میں کچھ کر بیٹھے، لہذا سجدہ میں تفریق ہوئی، باقی ارکان سب نے ایک ساتھ ادا کئے، اس حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ جیسا موقع ہو اسی طرح سے صلاۃ خوف پڑھنا اولیٰ ہے، اور ہر ایک صورت جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2673، ومصباح الزجاجة: 440)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ المغازي 31 (4130)، صحیح مسلم/المسافرین 57 (840)، سنن ابی داود/الصلاة (تعلیقا) 281 (1286)، سنن النسائی/صلاة الخوف (1936)، مسند احمد (3/298) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #1260
1258 1259 1260 1261 1262

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1258 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَ...
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف کی ( کیفیت ) کے ب...
#1259 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنِي يَحْيَ...
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نماز خوف کے بارے میں کہا : امام قبلہ رو کھڑا ہو...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ