سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 891
Sunan Ibn Majah 891
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
21: بَابُ : الاِعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ
باب: سجدے میں اعتدال اور میانہ روی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ، وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں کا کوئی شخص سجدہ کرے تو اعتدال سے کرے ۱؎ ، اور اپنے دونوں بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 891]
💡 وضاحت:
۱؎: سجدہ میں اعتدال یہ ہے کہ دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھے، اور دونوں کہنیاں زمین سے اٹھائے رکھے، اور پیٹ کو ران سے جدا رکھے، حافظ ابن حجر نے کہا: بازوؤں کو بچھانا مکروہ ہے کیونکہ خشوع اور آداب کے خلاف ہے، البتہ اگر کوئی دیر تک سجدے میں رہے تو وہ اپنے گھٹنے پر بازو ٹیک سکتا ہے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ صحابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدے کی مشقت کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھٹنوں سے مدد لو“۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/المواقیت 89 (275)، (تحفة الأشراف: 2311)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/305، 315، 389) (صحیح)