كتاب المساجد والجماعات
کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
|
1: بَابُ : مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا
باب: اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنانے والے کی فضیلت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَعْفَرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ جَمِيعًا، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ بَنَى مَسْجِدًا يُذْكَرُ فِيهِ اسْمُ اللَّهِ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائی ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 735]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عثمان بن عبد اللّٰه عن عمر مرسل (تهذيب الكمال 12/ 429) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 405
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10604، ومصباح الزجاجة: 274)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/20، 53) (صحیح) (عثمان بن عبداللہ بن سراقہ کا سماع عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا، بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضا جوئی کے لیے مسجد بنوائی ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ویسا ہی گھر بنائے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 736]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے مسجد کو دنیا کے گھروں پر فضیلت ہوتی ہے، ویسے ہی اس گھر کو جنت کے دوسرے گھروں پر فضیلت ہو گی، مقصد یہ نہیں ہے کہ مسجد کے برابر ہی جنت میں گھر بنے، «اللهم ارزقنا جنة الفردوس» آمين.
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 4 (533)، سنن الترمذی/الصلاة 120 (318)، (تحفةالأشراف: 9837)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 65 (450)، مسند احمد (1/61، 70)، سنن الدارمی/الصلاة 113 (1432) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا مِنْ مَالِهِ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے لیے خالص اپنے مال سے مسجد بنوائی ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 737]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،الوليد مدلس وابن لھيعة ضعيف“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 405
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10242، ومصباح الزجاجة: 275) (ضعیف) (سند میں ولید میں مسلم مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، وہ تدلیس تسویہ میں بھی مشہور ہیں، اور ابن لہیعہ اختلاط کا شکار ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اصل حدیث کثر ت کی وجہ سے صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ النَّوْفَلِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ أَوْ أَصْغَرَ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے پرندے کے گھونسلے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی مسجد اللہ کے لیے بنوائی ، تو اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 738]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث میں «قطاۃ» کا لفظ ہے، وہ ایک چڑیا ہے، جو دور دراز جنگل میں جا کر گھونسلا بناتی ہے، اور اس کا گھونسلا نہایت چھوٹا ہوتا ہے، اور یہ مبالغہ ہے مسجد کے چھوٹے ہونے میں، ورنہ گھونسلے کے برابر تو کوئی مسجد بنانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ کم سے کم مسجد میں تین آدمیوں کے نماز پڑھنے کی جگہ ہوتی ہے، غرض یہ ہے کہ چھوٹی بڑی مسجد پر منحصر نہیں خالص نیت سے اگر کوئی نہایت مختصر مسجد بھی بنا دے گا، تب بھی اللہ تعالیٰ اس کو اجر دے گا، اور جنت میں اس کے لئے مکان بنایا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2421، ومصباح الزجاجة: 276) (صحیح)
|
|
|
2: بَابُ : تَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ
باب: مساجد کے سجانے اور اونچی بنانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت اس وقت قائم ہو گی ، جب لوگ مسجدوں کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگیں گے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 739]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں لوگ کہیں گے کہ ہماری مسجد فلاں کی مسجد سے زیادہ عمدہ، بلند اور پرشکوہ ہے، نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجدوں پر فخر کرنا قیامت کی نشانی ہے، لیکن مسجدوں کو آراستہ اور بلند کرنے کی ممانعت نہیں نکلتی، دوسری حدیثوں سے اس امر کی کراہت ثابت ہے، لیکن علماء نے کہا ہے کہ اس زمانہ میں مصلحتاً مساجد کی بلندی پر سکوت کرنا چاہئے کیونکہ یہود اور نصاری نے اپنے گرجاؤں کو بہت بلند اور عمدہ بنانا شروع کیا ہوا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 12 (449)، سنن النسائی/المساجد 2 (690)، (تحفة الأشراف: 951، ومصباح الزجاجة: 277)، مسند احمد (3/134، 145، 230، 283)، سنن الدارمی/الصلاة 123 (1448) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيُّ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَاكُمْ سَتُشَرِّفُونَ مَسَاجِدَكُمْ بَعْدِي كَمَا شَرَّفَتِ الْيَهُودُ كَنَائِسَهَا، وَكَمَا شَرَّفَتِ النَّصَارَى بِيَعَهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا خیال ہے کہ تم لوگ میرے بعد مسجدوں کو ویسے ہی بلند اور عالی شان بناؤ گے جس طرح یہود نے اپنے گرجا گھروں کو ، اور نصاریٰ نے اپنے کلیساؤں کو بنایا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 740]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،فيه ليث وھو ابن أبي سليم: ضعيف،وجبارة بن المغلس وھو كذاب“ ليث وجبارة: ضعيف (تقريب: 890) وقال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 21/9) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 405
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6208)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 12 (448) (ضعیف) (سند میں جبارہ بن مغلس اور لیث بن أبی سلیم ضعیف ہیں، لیکن یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2733)
|
|
|
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا سَاءَ عَمَلُ قَوْمٍ قَطُّ، إِلَّا زَخْرَفُوا مَسَاجِدَهُمْ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کسی قوم کے اعمال خراب ہوئے تو اس نے اپنی مسجدوں کو سنوارا سجایا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 741]
💡 وضاحت:
۱؎: سبحان اللہ! آپ کا ارشاد گرامی کتنا درست اور صحیح ہے، اور سچی بات ہے کہ جب سے مسلمانوں نے بلا ضرورت مسجدوں کی زیب و زینت اور آراستگی میں مبالغہ شروع کیا اس وقت سے ان کے اعمال خراب ہو گئے، علم دین کی تعلیم کم ہو گئی، دینی مدرسے سے لوگوں کی دلچسپی کم ہو گئی، دینی طالب علموں کے تعلیمی اخراجات کے بارے میں لوگ غفلت کا شکار ہیں، جہالت کا بازار گرم ہے، بدعات و خرافات اور مشرکانہ افعال و اعمال کا رواج ہو گیا ہے، لیکن مسجدوں کی آرائش روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، مساجد کی بڑی آرائش اور زینت تو یہی ہے کہ وہاں اول وقت اذان دی جائے، امام دیندار اور عالم ہو، نماز سنت کے موافق، شرائط اور آداب کے ساتھ ادا کی جائے، روشنی بقدر ضرورت کی جائے کہ نمازیوں کو اندھیرے کی تکلیف نہ ہو، اس سے زیادہ جو روپیہ بچے وہ علم دین کی ترقی میں صرف کیا جائے، دینی کتابیں چھاپی جائیں، دینی واعظوں کو تنخواہ دی جائے کہ وہ مسلمانوں کو دین کی تعلیم دیں اور کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دیں، طالب علموں کی خبر گیری کی جائے، مدرسین رکھے جائیں، مدرسے کھلوائے جائیں، اگر یہ جانتے ہوئے بھی کوئی شخص اپنا روپیہ پیسہ ان کاموں میں صرف نہ کرے، اور مسجد کے نقش و نگار اور آراستگی اور روشنی اور فرش میں فضول خرچی کرے تو وہ گناہ گار ہوگا، اور آخرت میں اس سے باز پرس ہوگی کیونکہ اس نے ظاہر کو آراستہ کیا اور باطن کو خراب کیا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ جبارة: ضعيف جدًا ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 405
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10620، ومصباح الزجاجة: 278) (ضعیف) (جبارہ ضعیف ہے، اور ابو سحاق مدلس اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
|
|
|
3: بَابُ : أَيْنَ يَجُوزُ بِنَاءُ الْمَسَاجِدِ
باب: مسجد کس جگہ بنانی جائز ہے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ، وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَمَقَابِرُ لِلْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَامِنُونِي بِهِ"، قَالُوا: لَا نَأْخُذُ لَهُ ثَمَنًا أَبَدًا، قَالَ: فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْنِيهِ وَهُمْ يُنَاوِلُونَهُ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَلَا إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهِ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهِ"، قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ الْمَسْجِدَ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کی زمین قبیلہ بنو نجار کی ملکیت تھی ، جس میں کھجور کے درخت اور مشرکین کی قبریں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : ” تم مجھ سے اس کی قیمت لے لو “ ، ان لوگوں نے کہا : ہم ہرگز اس کی قیمت نہ لیں گے ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنا رہے تھے اور صحابہ آپ کو ( سامان دے رہے تھے ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” سنو ! زندگی تو دراصل آخرت کی زندگی ہے ، اے اللہ ! تو مہاجرین اور انصار کو بخش دے “ ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مسجد کی تعمیر سے پہلے جہاں نماز کا وقت ہو جاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہیں نماز پڑھ لیتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 742]
💡 وضاحت:
۱؎: جس جگہ مسجد نبوی بنائی گئی وہ ویران اور غیر آباد جگہ تھی، اسی میں بعض مشرکین کی قبریں تھیں، جن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اکھاڑنے کا حکم دیا، تو قبریں اکھاڑ دیں گئیں، تب آپ نے مسجد کی بنیاد رکھی، تفصیل بخاری، مسلم، ابوداود وغیرہ کی روایات میں دیکھئے، نیز کوئی خاص جگہ متعین نہ تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا: ”زندگی تو دراصل آخرت کی زندگی ہے“ اگر سچ پوچھیں تو دنیا میں عیش ہی نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی فکر نہ ہو جب بھی مرنے کی اور بیماری کی فکر لگی رہتی ہے، عیش تو اسی وقت سے شروع ہو گا جب کسی کو جنت میں جانے کا حکم ہو جائے گا، اے اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت نصیب فرمائے آمین۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 48 (428)، فضائل المدینة 1 (1868)، فضائل الأنصار46 (3932)، صحیح مسلم/المساجد 1 (524)، سنن ابی داود/الصلاة 12 (453، 358)، سنن النسائی/المساجد 12 (703)، (تحفة الأشراف: 1691)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/118، 123، 212، 244) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَهُ أَنْ يَجْعَلَ مَسْجِدَ الطَّائِفِ حَيْثُ كَانَ طَاغِيَتُهُمْ".
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ طائف میں مسجد وہیں پہ تعمیر کریں جہاں پہ طائف والوں کا بت تھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 743]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (450) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 405
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 12 (450)، (تحفة الأشراف: 9769) (ضعیف) (سند میں محمد بن عبد اللہ بن عیاض مجہول راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبو داود: 66)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَسُئِلَ عَنِ الْحِيطَانِ، تُلْقَى فِيهَا الْعَذِرَاتُ فَقَال: " إِذَا سُقِيَتْ مِرَارًا فَصَلُّوا فِيهَا"، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ان باغات میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا جن میں پاخانہ ڈالا جاتا ہے ، انہوں نے کہا : جب ان باغات کو کئی بار پانی سے سینچا گیا ہو تو ان میں نماز پڑھ لو ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 744]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن إسحاق عنعن ¤ عمرو بن عثمان بن سيار الرقي: ضعيف (تقريب: 5074) والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 406
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8419، ومصباح الزجاجة: 279) (ضعیف) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور راویت عنعنہ سے ہے)
|
|
|
4: بَابُ : الْمَوَاضِعِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلاَةُ
باب: جن جگہوں پر نماز مکروہ ہے ان کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ، إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قبرستان اور حمام ( غسل خانہ ) کے سوا ساری زمین مسجد ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 745]
💡 وضاحت:
۱؎: ان دو جگہوں کے سوا ہر جگہ نماز پڑھ سکتے ہیں، اس لئے کہ قبرستان کی مٹی مردوں کی نجاستوں سے مخلوط ہے، اور حمام (غسل خانہ) گندگیوں کے ازالہ کی جگہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 24 (492)، سنن الترمذی/الصلاة 120 (317)، (تحفة الأشراف: 4406) وقد أخرجہ: مسند احمد (3/83، 96)، سنن الدارمی/الصلاة 111 (1430) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلَّى فِي سَبْعِ مَوَاطِنَ: فِي الْمَزْبَلَةِ، وَالْمَجْزَرَةِ، وَالْمَقْبَرَةِ، وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ، وَالْحَمَّامِ، وَمَعَاطِنِ الْإِبِلِ، وَفَوْقَ الْكَعْبَةِ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مقامات پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے : ” کوڑا خانہ ، مذبح ( ذبیحہ گھر ) ، قبرستان ، عام راستہ ، غسل خانہ ، اونٹ کے باڑے اور خانہ کعبہ کی چھت پر “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 746]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (346) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 406
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصلاة 14 (346، 347)، (تحفة الأشراف: 7660) (ضعیف) (محمد بن ابراہیم منکر اور زید بن جبیرہ متروک ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 287، یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن ان مقامات کے بارے میں دوسری احادیث وارد ہوئی ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَبْعُ مَوَاطِنَ لَا تَجُوزُ فِيهَا الصَّلَاةُ: ظَاهِرُ بَيْتِ اللَّهِ، وَالْمَقْبَرَةُ، وَالْمَزْبَلَةُ، وَالْمَجْزَرَةُ، وَالْحَمَّامُ، وَعَطَنُ الْإِبِلِ، وَمَحَجَّةُ الطَّرِيقِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سات مقامات پر نماز جائز نہیں ہے : خانہ کعبہ کی چھت پر ، قبرستان ، کوڑا خانہ ، مذبح ، اونٹوں کے باندھے جانے کی جگہوں اور عام راستوں پر “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 747]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (347) ¤ أبو صالح كاتب الليث ضعيف في غير ما يروي الحذاق كالبخاري وغيره عنه و تلميذه ھاھنا ليس من الحذاق ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 406
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10571، ومصباح الزجاجة: 281)، سنن الترمذی/الصلاة (347 تعلیقاً) (ضعیف) (اس سند میں عبد اللہ بن عمر العمری ضعیف ہیں، اور سنن ابن ماجہ کے بعض نسخوں میں ساقط ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 287)
|
|
|
5: بَابُ : مَا يُكْرَهُ فِي الْمَسَاجِدِ
باب: جو کام مساجد میں مکروہ ہیں ان کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ جَبِيرَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خِصَالٌ لَا تَنْبَغِي فِي الْمَسْجِدِ: لَا يُتَّخَذُ طَرِيقًا، وَلَا يُشْهَرُ فِيهِ سِلَاحٌ، وَلَا يُنْبَضُ فِيهِ بِقَوْسٍ، وَلَا يُنْشَرُ فِيهِ نَبْلٌ، وَلَا يُمَرُّ فِيهِ بِلَحْمٍ نِيءٍ، وَلَا يُضْرَبُ فِيهِ حَدٌّ، وَلَا يُقْتَصُّ فِيهِ مِنْ أَحَدٍ، وَلَا يُتَّخَذُ سُوقًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چند اعمال ایسے ہیں جو مسجد میں نامناسب ہیں ، اس کو عام گزرگاہ نہ بنایا جائے ، اس میں ہتھیار ننگا نہ کیا جائے ، تیر اندازی کے لیے کمان نہ پکڑی جائے ، اس میں تیروں کو نہ پھیلایا جائے ، کچا گوشت لے کر نہ گزرا جائے ، اس میں حد نہ قائم کی جائے ، کسی سے قصاص نہ لیا جائے ، اور اس کو بازار نہ بنایا جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 748]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف وصحت منه الخصلة الاولى
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ زيد بن جبيرة: متروك (تقريب: 2122) حدث عن داود بن الحصين بحديث منكر جدًا ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 406
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7661، ومصباح الزجاجة: 280) (ضعیف) (اس سند میں زید بن جبیرہ ضعیف ہیں، لیکن لا يتخذ طريقا کا جملہ صحیح ہے، اس لئے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً طبرانی کبیر (12/314) سند حسن سے مروی ہے: لا تتخذ المساجد طريقاً إلا لذكر الله أو صلاة نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1497، وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1001)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبَيْعِ وَالِابْتِيَاعِ، وَعَنْ تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ فِي الْمَسَاجِدِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت اور ( غیر دینی ) اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 749]
💡 وضاحت:
۱؎: مراد فحش اور مخرب اخلاق اشعار ہیں، وہ اشعار جو توحید اور اتباع رسول وغیرہ اصلاحی مضامین پر مشتمل ہوں، تو ان کے پڑھنے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 220 (1079)، سنن الترمذی/الصلاة 124 (322)، سنن النسائی/المساجد 22 (715)، (تحفة الأشراف: 8796)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/179) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ يَقْظَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " جَنِّبُوا مَسَاجِدَكُمْ صِبْيَانَكُمْ، وَمَجَانِينَكُمْ، وَشِرَاءَكُمْ، وَبَيْعَكُمْ، وَخُصُومَاتِكُمْ، وَرَفْعَ أَصْوَاتِكُمْ، وَإِقَامَةَ حُدُودِكُمْ، وَسَلَّ سُيُوفِكُمْ، وَاتَّخِذُوا عَلَى أَبْوَابِهَا الْمَطَاهِرَ، وَجَمِّرُوهَا فِي الْجُمَعِ".
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنی مسجدوں کو بچوں ، دیوانوں ( پاگلوں ) ، خرید و فروخت کرنے والوں ، اور اپنے جھگڑوں ( اختلافی مسائل ) ، زور زور بولنے ، حدود قائم کرنے اور تلواریں کھینچنے سے محفوظ رکھو ، اور مسجدوں کے دروازوں پر طہارت خانے بناؤ ، اور جمعہ کے روز مسجدوں میں خوشبو جلایا کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 750]
💡 وضاحت:
۱؎: بچوں کو مسجد میں لانا اس وقت مکروہ ہے جب وہ روتے چلاتے ہوں، یا ان کے پیشاب اور پاخانہ کر دینے کا ڈر ہو، ورنہ دوسری صحیح حدیثوں سے بچوں کا مسجد میں آنا ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده موضوع ¤ أبو سعيد المصلوب: كذاب وضاع ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 406
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11751، ومصباح الزجاجة: 272) (ضعیف جداً) (اس حدیث کی سند میں حارث بن نبہان ضعیف ہیں، اور ابو سعد محمدبن سعید المصلوب فی الزندقہ متروک)
|
|
|
6: بَابُ : النَّوْمِ فِي الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں سونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " كُنَّا نَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد میں سوتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 751]
💡 وضاحت:
۱؎: مسجد میں سونا جائز ہے، خصوصاً مسافر کے واسطے مگر جن لوگوں کا گھر بار موجود ہو ان کے لئے ہمیشہ مسجد میں سونے کی عادت کو بعض علماء نے مکروہ کہا ہے، اور جو لوگ نماز کے لئے مسجد میں آئیں وہ اگر وہاں سو جائیں تو درست ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایسا کیا ہے۔
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8012)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 58 (440)، سنن الترمذی/الصلاة 122 (321)، سنن النسائی/المساجد 29 (723)، مسند احمد (2/12)، سنن الدارمی/الصلاة 117 (1440) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ يَعِيشَ بْنَ قَيْسِ بْنِ طِخْفَةَ ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْطَلِقُوا"، فَانْطَلَقْنَا إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ، وَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ شِئْتُمْ نِمْتُمْ هَا هُنَا، وَإِنْ شِئْتُمُ انْطَلَقْتُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ"، قَالَ: فَقُلْنَا: بَلْ نَنْطَلِقُ إِلَى الْمَسْجِدِ.
قیس بن طخفة ( جو اصحاب صفہ میں سے تھے ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” تم سب چلو “ ، چنانچہ ہم سب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے ، وہاں ہم نے کھایا پیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” اگر تم لوگ چاہو تو یہیں سو جاؤ ، اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ “ ، ہم نے کہا کہ ہم مسجد ہی جائیں گے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 752]
💡 وضاحت:
۱؎: اصحاب صفہ وہ لوگ تھے جو مسجد نبوی کے صفہ یعنی سائباں میں رہتے تھے، گھر بار مال و اسباب ان کے پاس کچھ نہ تھا، وہ مسکین تھے، کوئی کھلا دیتا تو کھا لیتے، ان کے حالات کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حیات پر مشتمل کتابوں کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف مضطرب
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأدب 103 (5040)، (تحفة الأشراف: 4991)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/429، 430، 5/426، 427) (ضعیف) (حدیث میں اضطراب ہے، نیز سند میں یحییٰ بن ابی کثیر مدلس ہیں، اور اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
|
|
|
7: بَابُ : أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ أَوَّلُ
باب: سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ أَوَّلُ؟ قَالَ: " الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ"، قَالَ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: " ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى"، قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: " أَرْبَعُونَ عَامًا، ثُمَّ الْأَرْضُ لَكَ مُصَلًّى، فَصَلِّ حَيْثُ مَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ".
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسجد الحرام “ ، میں نے پوچھا : پھر کون سی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر مسجد الاقصیٰ “ ، میں نے پوچھا : ان دونوں کی مدت تعمیر میں کتنا فاصلہ تھا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چالیس سال کا ، پھر ساری زمین تمہارے لیے نماز کی جگہ ہے ، جہاں پر نماز کا وقت ہو جائے وہیں ادا کر لو ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 753]
💡 وضاحت:
۱؎: ظاہراً اس میں اشکال ہے کہ کعبہ اور بیت المقدس میں چالیس برس کا فاصلہ ہے، کیونکہ کعبہ کو ابراہیم علیہ السلام نے بنایا، اور بیت المقدس کو سلیمان علیہ السلام نے اور ان دونوں میں ہزار برس سے زیادہ فاصلہ تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں کو آدم علیہ السلام نے بنایا تھا، اور ممکن ہے کہ ان دونوں کی بنا میں چالیس برس کا فاصلہ ہو، پھر ابراہیم اور سلیمان علیہما السلام نے اپنے اپنے وقتوں میں ان بنیادوں کو جو مٹ گئی تھیں دوبارہ بنایا، اور ابن ہشام نے سیرت میں بھی ایسا ہی ذکر کیا ہے کہ پہلے آدم علیہ السلام نے کعبہ کو بنایا، پھر اللہ تعالیٰ ان کو ملک شام لے گیا وہاں انہوں نے بیت المقدس کو بنایا، بہر حال جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ صحیح ہے، اگرچہ تاریخ والے اس کے خلاف یا اس کے موافق لکھیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام ہی نے خانہ کعبہ اور بیت المقدس کی تعمیر کی ہو جس میں چالیس سال کا وقفہ ہو، بعض روایات میں بیت المقدس کی تأسیس کے حوالے اسحاق بن ابراہیم علیہما السلام کا نام بھی آیا ہے، جس کا معنی یہ ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام کے تعمیر کعبہ سے چالیس برس بعد ان کے بیٹے اسحاق علیہ السلام نے بیت المقدس کی بنیاد رکھی تھی اور سلیمان بن داود علیہما السلام نے بیت المقدس کی تجدید و توسیع کروائی تھی، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے آدم علیہ السلام کی بنیادوں پر ہی کعبۃ اللہ کی تعمیر تجدید کی تھی، «واللہ اعلم بالصواب» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 11 (3366)، 40 (3425)، صحیح مسلم/المساجد 1 (520)، سنن النسائی/المساجد 3 (691)، (تحفة الأشراف: 11994)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/150، 156، 160، 167) (صحیح)
|
|
|
8: بَابُ : الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ
باب: گھروں میں مساجد بنانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ ، وَكَانَ قَدْ عَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَلْوٍ فِي بِئْرٍ لَهُمْ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ السَّالِمِيِّ ، وَكَانَ إِمَامَ قَوْمِهِ بَنِي سَالِمٍ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ مِنْ بَصَرِي وَإِنَّ السَّيْلَ يَأْتِي فَيَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي، وَيَشُقُّ عَلَيَّ اجْتِيَازُهُ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى فَافْعَلْ، قَالَ: " أَفْعَلُ"، فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ، وَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنْتُ لَهُ، وَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى قَالَ: " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ لَكَ مِنْ بَيْتِكَ؟" فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ احْتَبَسْتُهُ عَلَى خَزِيرَةٍ تُصْنَعُ لَهُمْ.
محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور ان کو وہ کلی یاد تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈول سے لے کر ان کے کنویں میں کر دی تھی ، انہوں نے عتبان بن مالک سالمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( جو اپنی قوم بنی سالم کے امام تھے اور غزوہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے تھے ) وہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری نظر کمزور ہو گئی ہے ، جب سیلاب آتا ہے تو وہ میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان حائل ہو جاتا ہے ، اسے پار کرنا میرے لیے دشوار ہوتا ہے ، اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے گھر تشریف لائیں اور گھر کے کسی حصے میں نماز پڑھ دیں ، تاکہ میں اس کو اپنے لیے مصلیٰ ( نماز کی جگہ ) بنا لوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ٹھیک ہے ، میں ایسا کروں گا “ ، اگلے روز جب دن خوب چڑھ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، اور اندر آنے کی اجازت طلب کی ، میں نے اجازت دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بیٹھے بھی نہ تھے کہ فرمایا : ” تم اپنے گھر کے کس حصہ کو پسند کرتے ہو کہ میں تمہارے لیے وہاں نماز پڑھ دوں ؟ “ ، میں جہاں نماز پڑھنا چاہتا تھا ادھر میں نے اشارہ کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی ، پھر میں نے آپ کو خزیرہ ( حلیم ) ۱؎ تناول کرنے کے لیے روک لیا جو ان لوگوں کے لیے تیار کیا جا رہا تھا ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 754]
💡 وضاحت:
۱؎: خزیرہ: یہ ایک قسم کا کھانا ہے جو گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر آٹا ڈال کر پکایا جاتا ہے، موجودہ دور میں یہ حلیم کے نام سے مشہور ہے۔ ۲؎: اس حدیث سے بہت سی باتیں نکلتی ہیں، گھر میں مسجد بنانا، چاشت کی نماز جماعت ادا کرنا، نابینا کے لئے جماعت سے معافی، غیر کے گھر میں جانے سے پہلے اجازت لینا، نفل نماز جماعت سے جائز ہونا وغیرہ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 45 (224)، 46 (225)، الأذان 40 (667)، 50 (686)، 154 (839)، التہجد 36 (1185)، الأطعمة 15 (5201)، صحیح مسلم/المساجد 47 (33)، سنن النسائی/الإمامة 10 (789)، 46 (845)، السھو 73 (1328)، (تحفة الأشراف: 9750، 11235)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصر الصلاة 24 (86)، مسند احمد (4/44، 5/449) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ الْمُقْرِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعَالَ فَخُطَّ لِي مَسْجِدًا فِي دَارِي أُصَلِّي فِيهِ، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا عَمِيَ، فَجَاءَ فَفَعَلَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ انصار کے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خبر بھیجی کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں مسجد کے لیے حد بندی کر دیں تاکہ میں اس میں نماز پڑھا کروں ، اور یہ اس لیے کہ وہ صحابی نابینا ہو گئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، اور ان کی مراد پوری کر دی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 755]
💡 وضاحت:
۱؎: انصاری آدمی سے مراد صحابی رسول عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں، جیسا کہ صحیحین میں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12814، ومصباح الزجاجة: 283) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَارُودِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي، وَتُصَلِّيَ فِيهِ، قَالَ: فَأَتَاهُ وَفِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ هَذِهِ الْفُحُولِ، فَأَمَرَ بِنَاحِيَةٍ مِنْهُ، فَكُنِسَ وَرُشَّ، فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةَ: الْفَحْلُ هُوَ: الْحَصِيرُ الَّذِي قَدِ اسْوَدَّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ایک چچا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا ، اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میری خواہش ہے کہ آپ آج میرے گھر کھانا کھائیں ، اور اس میں نماز بھی پڑھیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے گھر میں ایک پرانی کالی چٹائی پڑی ہوئی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے ایک گوشہ کو صاف کرنے کا حکم دیا ، وہ صاف کیا گیا ، اور اس پر پانی چھڑک دیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی ۱؎ ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ «فحل» اس چٹائی کو کہتے ہیں جو پرانی ہونے کی وجہ سے کالی ہو گئی ہو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 756]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے بوریئے پر نماز پڑھنا ثابت ہوا، اور پرانے بوریئے پر بھی جو بچھتے بچھتے کالا ہو گیا تھا، صرف صفائی کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ایک کونہ جھڑوا دیا، اور تھوڑا پانی اس پر چھڑک دیا، اہل حدیث کا طرز یہی ہے کہ وہ ہر فرش پر نماز پڑھ لیتے ہیں، گو وہ کتنا ہی پرانا ہو بشرطیکہ اس کی نجاست کا یقین نہ ہو، اور جب تک نجاست کا یقین نہ ہو وہ پاک ہی سمجھا جائے گا، اس لئے کہ ہر شے میں پاکی ہی اصل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 981، ومصباح الزجاجة: 284)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/112، 128) (صحیح) (نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 665)
|
|
|
9: بَابُ : تَطْهِيرِ الْمَسَاجِدِ وَتَطْيِيبِهَا
باب: مساجد کو صاف اور معطر رکھنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الْجَوْنِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَخْرَجَ أَذًى مِنَ الْمَسْجِدِ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مسجد سے کوڑا کرکٹ نکال دے ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 757]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البو صيري: ”ھذا إسناد ضعيف،مسلم ھو ابن يسار لم يسمع من أبي سعيد الخدري و محمد (بن صالح المدني) فيه لين“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 406
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4300، ومصباح الزجاجة: 285) (ضعیف) (سند میں ضعف انقطاع کی وجہ سے ہے کیونکہ سلیمان بن یسار کا سماع ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، اور محمد بن صالح میں ضعف ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ بِالْمَسَاجِدِ أَنْ تُبْنَى فِي الدُّورِ، وَأَنْ تُطَهَّرَ وَتُطَيَّبَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ” محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں ، اور انہیں پاک و صاف رکھا جائے ، اور ان میں خوشبو لگائی جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 758]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17180)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 13 (455)، سنن الترمذی/الجمعة 64 (594)، مسند احمد (5/12، 271) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا رِزْقُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ فِي الدُّورِ، وَأَنْ تُطَهَّرَ وَتُطَيَّبَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا : ” محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور انہیں پاک و صاف رکھا جائے ، اور ان میں خوشبو لگائی جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 759]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 13 (455)، (تحفة الأشراف: 16891) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " أَوَّلُ مَنْ أَسْرَجَ فِي الْمَسَاجِدِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے تمیم داری رضی اللہ عنہ نے مسجدوں میں چراغ جلایا تھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 760]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ خالد بن إياس: متروك الحديث ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 406
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4401، ومصباح الزجاجة: 286) (ضعیف جداً) (خالد بن ایاس منکر الحدیث اور متروک راوی ہیں)
|
|
|
10: بَابُ : كَرَاهِيَةِ النُّخَامَةِ فِي الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں تھوکنے اور ناک جھاڑنے کی کراہت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ أَبُو مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبي سعيد الخدري: أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي جِدَارِ الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَ حَصَاةً فَحَكَّهَا، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ شِمَالِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى".
ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار پر رینٹ دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری لے کر اسے کھرچ ڈالا ، پھر فرمایا : ” جب کوئی شخص تھوکنا چاہے تو اپنے سامنے اور اپنے دائیں ہرگز نہ تھوکے ، بلکہ اپنے بائیں جانب یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 761]
💡 وضاحت:
۱؎: مسجد میں تھوک، بلغم، رینٹ وغیرہ سے طاقت بھر پرہیز لازم ہے، اگر شدید ضرورت ہو، اور مسجد کا فرش ریت یا مٹی کا ہو تو بائیں پیر کے نیچے تھوک کر اس کو دبا دے، لیکن آج کل مساجد کے فرش پختہ ہیں، ان پر کسی بھی صورت میں تھوکنا جائز نہیں، ضرورت کے وقت رومال وغیرہ میں تھوکے، مسجد کو گندہ ہونے سے بچائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 34 (408)، 35 (410)، 36 (413)، صحیح مسلم/المساجد 13 (547)، سنن النسائی/المساجد 32 (726)، (تحفة الأشراف: 3997، 12281)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 23 (477)، مسند احمد (3/6، 24، 58، 88، 93) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ، حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَحَكَّتْهَا، وَجَعَلَتْ مَكَانَهَا خَلُوقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَحْسَنَ هَذَا".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار قبلہ پر بلغم دیکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصہ ہوئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا ، اتنے میں قبیلہ انصار کی ایک عورت آئی اور اس نے اسے کھرچ دیا ، اور اس کی جگہ خوشبو لگا دی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کتنا اچھا کام ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 762]
💡 وضاحت:
۱؎: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی تعریف کی کہ اس نے مسجد سے کراہت کی چیز نکال ڈالی اور اس کے بعد قبلہ کی طرف خوشبو لگائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں دیوار صاف ہوتی تھی جب بھی کوئی اس پر تھوک دیتا وہ واضح طور پر نظر آتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/المساجد 35 (729)، (تحفة الأشراف: 698)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/188، 199، 200) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يُصَلِّي بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ فَحَتَّهَا، ثُمَّ قَالَ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدُكُمْ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار قبلہ پر بلغم دیکھا ، اس وقت آپ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بلغم کھرچ دیا ، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ” جب کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے سامنے ہوتا ہے ، لہٰذا کوئی شخص نماز میں اپنے سامنے نہ تھوکے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 763]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لئے کہ مالک جب سامنے ہو اور اسی طرف تھوکے، تو اس میں بڑی بے ادبی اور گستاخی ہے، اس حدیث میں جہمیہ اور اہل بدعت کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ (معاذ اللہ) ہر مکان اور ہر جہت میں ہے کیونکہ یہ تشبیہ ہے، اور ترمذی کی ایک روایت میں یوں ہے: یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت نمازی کے سامنے ہے، پس معلوم ہوا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے ہونے سے اس کی رحمت کا سامنے ہونا مراد ہوتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہر مکان میں ہوتا جیسے اہل بدعت کا اعتقاد ہے تو بائیں طرف بھی تھوکنا ویسا ہی منع ہوتا، جیسے سامنے تھوکنا، واضح رہے کہ اللہ رب العزت کے لیے علو اور بلندی کی صفت کتاب و سنت سے ثابت ہے، اور وہ آسمان سے بلند عرش پر مستوی ہے، جیسا کہ شروع کتاب السنہ کی احادیث میں گزرا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 33 (406)، الأذان 94 (753)، العمل في الصلاة 2 (1213)، الأدب 75 (6111)، صحیح مسلم/المساجد 13 (547)، (تحفة الأشراف: 8271)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 22 (479)، سنن النسائی/المساجد 31 (725)، موطا امام مالک/القبلة 3 (4)، مسند احمد (2/32، 66)، سنن الدارمی/الصلاة 116 (1437) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَكَّ بُزَاقًا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ کی دیوار پر لگا ہوا تھوک رگڑ کر صاف کر دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 764]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17287ومصباح الزجاجة: 287)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 33 (406)، صحیح مسلم/المساجد 13 (549)، موطا امام مالک/القبلة 3 (5)، مسند احمد (4/138، 148، 230، 6/138) (صحیح)
|
|
|
11: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ إِنْشَادِ الضَّوَالِّ فِي الْمَسْجِدِ
باب: مساجد میں گمشدہ چیزوں کو پکار کر ڈھونڈنا منع ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا وَجَدْتَهُ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ، تو ایک شخص نے کہا : میرا سرخ اونٹ کس کو ملا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کرے تمہیں نہ ملے ، مسجدیں خاص مقصد کے لیے بنائی گئی ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 765]
💡 وضاحت:
۱ ؎: مساجد اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی یاد کے لئے اور تلاوت قرآن اور وعظ اور تعلیم قرآن اور حدیث کے لئے بنائی گئی ہیں، اور علماء حق ہمیشہ مسجد میں دینی علوم کی تعلیم دیتے رہے، اور تعلیم میں کبھی بحث کی بھی ضرورت ہوتی ہے، حافظ ابن حجر نے کہا کہ مسجد میں نکاح پڑھنا درست ہے بلکہ سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 18 (569)، (تحفة الأشراف: 1936)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/349، 420) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ إِنْشَادِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں گمشدہ چیزوں کے اعلان سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 766]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 220 (1079)، سنن الترمذی/الصلاة 124 (322)، سنن النسائی/المساجد 23 (716)، (تحفة الأشراف: 8796)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/179)، سنن النسائی/في الیوم و اللیلة 66 (173) (حسن) (سند میں عبد اللہ بن لہیعہ ضعیف ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر حسن ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَسَدِيِّ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ، فَلْيَقُلْ لَا رَدَّ اللَّهُ عَلَيْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو شخص کسی کو مسجد میں کسی گمشدہ چیز کا اعلان کرتے سنے تو کہے : اللہ کرے تمہاری چیز نہ ملے ، اس لیے کہ مسجدیں اس کے لیے نہیں بنائی گئی ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 767]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 18 (568)، سنن ابی داود/الصلاة 21 (473)، (تحفة الأشراف: 15446)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/349)، سنن الدارمی/الصلاة 118 (1441) (صحیح)
|
|
|
12: بَابُ : الصَّلاَةِ فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ وَمُرَاحِ الْغَنَمِ
باب: اونٹوں اور بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ لَمْ تَجِدُوا إِلَّا مَرَابِضَ الْغَنَمِ، وَأَعْطَانَ الْإِبِلِ، فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تمہیں بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ میسر نہ ہو تو بکری کے باڑے میں نماز پڑھو ، اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 768]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14555، 14559، ومصباح الزجاجة: 288)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 142 (348) مختصراً، سنن الدارمی/الصلاة 112 (1431) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ".
عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو ، اور اونٹوں کے باڑ میں نماز نہ پڑھو ، کیونکہ ان کی خلقت میں شیطنت ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 769]
💡 وضاحت:
۱؎: فؤاد عبدالباقی کے نسخہ میں اور ایسے ہی پیرس کے مخطوطہ میں «هشيم» کے بجائے «أبو نعيم» ہے، جو غلط ہے۔ ۲؎: شیطنت سے مراد شرارت ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ اونٹ شیطان سے پیدا ہوا، ورنہ وہ حلال نہ ہوتا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اوپر نماز ادا نہ کرتے، لیکن شافعی کی روایت میں یوں ہے کہ جب تم اونٹوں کے باڑہ میں ہو اور نماز کا وقت آ جائے تو وہاں سے نکل جاؤ کیونکہ اونٹ جن ہیں، اور جنوں سے پیدا ہوئے ہیں، اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اونٹوں میں شرارت کا مادہ زیادہ ہے، اور یہی وجہ ہے وہاں نماز پڑھنا منع ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
نفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9651، ومصباح الزجاجة: 289)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/المساجد 41 (736)، وذکر أعطان الإبل، مسند احمد (4/85، 86، 5/54، 55) (صحیح) (اس حدیث کا شاہد براء رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جو ابو داود: 184 - 493 میں ہے، لیکن شاہد نہ ملنے کی وجہ سے فإنها خلقت من الشياطين کے لفظ کو البانی صاحب نے ضعیف کہا ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2210، و تراجع الألبانی: رقم: 298)۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ رَبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيُّ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُصَلَّى فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، وَيُصَلَّى فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ".
معبد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھی جائے ، اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لی جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 770]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3813، ومصباح الزجاجة: 290)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/405، 5/102) (حسن صحیح)
|
|
|
13: بَابُ : الدُّعَاءِ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں داخل ہونے کے وقت پڑھی جانے والی دعا کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَقُولُ: " بِسْمِ اللَّهِ، وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے : «بسم الله والسلام على رسول الله اللهم اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب رحمتك» ” میں اللہ کا نام لے کر داخل ہوتا ہوں ، اور رسول اللہ پر سلام ہو ، اے اللہ ! میرے گناہوں کو بخش دے ، اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے “ ، اور جب نکلتے تو یہ دعا پڑھتے : «بسم الله والسلام على رسول الله اللهم اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب فضلك» ” میں اللہ کا نام لے کر جاتا ہوں ، اور رسول اللہ پر سلام ہو ، اے اللہ ! میرے گناہوں کو بخش دے ، اور اپنے فضل کے دروازے مجھ پر کھول دے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 771]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (314) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 406
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصلاة 117 (314)، (تحفة الأشراف: 18041)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 117 عن فاطمة (314)، مسند احمد (6/ 282، 283) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 510)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ".
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے ، پھر کہے : «اللهم افتح لي أبواب رحمتك» ” اے اللہ ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے “ اور جب نکلے تو یہ کہے : «اللهم إني أسألك من فضلك» ” اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 772]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 10 (713)، سنن ابی داود/الصلاة 18 (465)، سنن النسائی/المساجد 36 (730)، سنن الترمذی/الصلاة 117 عن فاطمة (314)، (تحفة الأشراف: 11893)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/425)، سنن الدارمی/الصلاة 115 (1434)، الاستئذان 56 (2733) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام بھیجے اور کہے : «اللهم افتح لي أبواب رحمتك» ” اے اللہ ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے “ ، اور جب مسجد سے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام بھیجے ، اور کہے : «اللهم اعصمني من الشيطان الرجيم» ” اے اللہ ! مردود شیطان سے میری حفاظت فرما “ “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 773]
💡 وضاحت:
۱؎: مسجد سے نکلتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کی وجہ ہے، ابن السنی نے روایت کی ہے کہ تم میں سے جب کوئی مسجد سے نکلنا چاہتا ہے تو ابلیس کے لشکر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں، اور شہد کی مکھیوں کی طرح جو شہد کے چھتے پر جمع ہوتی ہیں جمع ہو جاتے ہیں، پھر جب تم میں سے کوئی مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو تو کہے: ”یا اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ابلیس اور اس کے لشکر سے“ جب یہ کہے گا تو اس کو نقصان نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12962، ومصباح الزجاجة: 291) (صحیح)
|
|
|
14: بَابُ : الْمَشْيِ إِلَى الصَّلاَةِ
باب: نماز کے لیے چل کر مسجد جانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً، حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے ، پھر مسجد آئے ، اور نماز ہی اس کے گھر سے نکلنے کا سبب ہو ، اور وہ نماز کے علاوہ کوئی اور ارادہ نہ رکھتا ہو ، تو ہر قدم پہ اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹاتا ہے ، یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہو جائے ، پھر مسجد میں داخل ہو گیا تو جب تک نماز اسے روکے رکھے نماز ہی میں رہتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 774]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12552) (الف)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 30 (647)، سنن ابی داود/الصلاة 49 (559)، سنن الترمذی/الجمعة 70 (330)، مسند احمد (2/176) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ ، بلکہ اطمینان سے چل کر آؤ ، امام کے ساتھ جتنی نماز ملے پڑھ لو ، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کر لو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 775]
💡 وضاحت:
۱؎: امام ترمذی نے کہا: علماء نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے، بعضوں نے کہا: جب تکبیر اولیٰ چھوٹ جانے کا ڈر ہو تو جلد چلے، اور بعضوں سے دوڑنا بھی منقول ہے، اور بعضوں نے جلدی چلنا، اور دوڑنا دونوں کو مکروہ کہا ہے، اور کہا ہے کہ سہولت اور اطمینان سے چلنا چاہئے، امام احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے، اور یہی صحیح ہے، اور اس حدیث میں ایسا ہی حکم ہے دوڑنے اور جلدی کرنے میں سوائے پریشانی کے کوئی فائدہ نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
حدیث سعید بن المسیب أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 28 (602)، (تحفة الأشراف: 13103)، وحدیث أبي سلمة أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 28 (602)، (تحفة الأشراف: 15128)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاذان 21 (636)، الجمعة 18 (908)، سنن ابی داود/الصلاة 55 (572)، سنن الترمذی/الصلاة 127 (327)، سنن النسائی/الإمامة 57 (862)، موطا امام مالک/الصلاة 1 (4)، مسند احمد (2/270، 282، 318، 382، 387، 427، 452، 460، 472، 489، 529، 532، 533)، سنن الدارمی/الصلاة 59 (1319) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَى إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ گناہوں کو معاف کرتا اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے ؟ “ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا : جی ہاں ، ضرور بتائیے اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دشواری و ناپسندیدگی کے باوجود پورا وضو کرنا ، مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانا ، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 776]
💡 وضاحت:
۱؎: وضو کا پورا کرنا یہ ہے کہ سب اعضاء کو پانی پہنچائے کوئی مقام سوکھا نہ رہے، اور آداب و سنن کے ساتھ وضو کرے، اور مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانے کا یہ مطلب ہے کہ مسجد مکان سے دور ہو اور جماعت کے لئے وہاں جائے، جتنی مسجد زیادہ دور ہو گی اتنے ہی قدم زیادہ اٹھانے پڑیں گے، اور ہر قدم پر ثواب ملتا رہے گا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھا رہنا بڑا ثواب ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ انتظار میں برابر نماز کا ثواب ملتا رہے گا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4046، ومصباح الزجاجة: 292)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/3، 16، 95) (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، وَلَعَمْرِي لَوْ أَنَّ كُلَّكُمْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ الرَّجُلَ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يَدْخُلَ فِي الصَّفِّ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ فَيَعْمِدُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيُصَلِّي فِيهِ، فَمَا يَخْطُو خَطْوَةً إِلَّا رَفَعَ اللَّهُ لَهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کو خوشی ہو کہ وہ کل اللہ تعالیٰ سے اسلام کی حالت میں ملاقات کرے تو جب اور جہاں اذان دی جائے ان پانچوں نمازوں کی پابندی کرے ، کیونکہ یہ ہدایت کی راہیں ہیں ، اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کے لیے ہدایت کے راستے مقرر کئے ہیں ، قسم ہے اگر تم میں سے ہر ایک اپنے گھر میں نماز پڑھ لے ، تو تم نے اپنے نبی کا راستہ چھوڑ دیا ، اور جب تم نے اپنے نبی کا راستہ چھوڑ دیا تو گمراہ ہو گئے ، ہم یقینی طور پر دیکھتے تھے کہ نماز سے پیچھے صرف وہی رہتا جو کھلا منافق ہوتا ، اور واقعی طور پر ( عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ) ایک شخص دو آدمیوں پر ٹیک دے کر مسجد میں لایا جاتا ، اور وہ صف میں شامل ہوتا ، اور جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور مسجد کا ارادہ کر کے نکلے ، پھر اس حالت میں نماز پڑھے ، تو وہ جو قدم بھی چلے گا ہر قدم پر اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا ، اور ایک گناہ مٹا دے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 777]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ نماز باجماعت فرض ہے، جمہور علماء اس کو سنت مؤکدہ کہتے ہیں، ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کے چھوڑ دینے کو گمراہی قرار دیا، ابوداود کی روایت میں ہے کہ تم کافر ہو جاؤ گے، تارک جماعت کو منافق بتلایا اگر وہ اس کا عادی ہے، ورنہ ایک یا دو بار کے ترک سے آدمی منافق نہیں ہوتا، ہاں نفاق پیدا ہوتا ہے، کبھی کبھی مسلمان بھی جماعت سے پیچھے رہ جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9495)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 44 (654)، سنن ابی داود/الصلاة 47 (550)، سنن النسائی/الإمامة 50 (850)، مسند احمد (1/382، 414، 415) (صحیح) (سند میں ابراہیم بن مسلم لین الحدیث ہیں، اور صحیح مسلم میں '' ولعمری'' کے بغیر یہ حدیث ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 559، والإرواء: 488)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْمُوَفَّقِ أَبُو الْجَهْمِ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى الصَّلَاةِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ، وَأَسْأَلُكَ بِحَقِّ مَمْشَايَ هَذَا، فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلَا بَطَرًا وَلَا رِيَاءً وَلَا سُمْعَةً، وَخَرَجْتُ اتِّقَاءَ سُخْطِكَ، وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ، فَأَسْأَلُكَ أَنْ تُعِيذَنِي مِنَ النَّارِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، أَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، وَاسْتَغْفَرَ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفِ مَلَكٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنے گھر سے نماز کے لیے نکلے اور یہ دعا پڑھے : «اللهم إني أسألك بحق السائلين عليك وأسألك بحق ممشاي هذا فإني لم أخرج أشرا ولا بطرا ولا رياء ولا سمعة وخرجت اتقاء سخطك وابتغاء مرضاتك فأسألك أن تعيذني من النار وأن تغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» ” اے اللہ ! میں تجھ سے اس حق ۱؎ کی وجہ سے مانگتا ہوں جو مانگنے والوں کا تجھ پر ہے ، اور اپنے اس چلنے کے حق کی وجہ سے ، کیونکہ میں غرور ، تکبر ، ریا اور شہرت کی نیت سے نہیں نکلا ، بلکہ تیرے غصے سے بچنے اور تیری رضا چاہنے کے لیے نکلا ، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے جہنم سے پناہ دیدے ، اور میرے گناہوں کو معاف کر دے ، اس لیے کہ گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی نہیں معاف کر سکتا “ تو اللہ تعالیٰ اس کی جانب متوجہ ہو گا ، اور ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کریں گے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 778]
💡 وضاحت:
۱؎: اگرچہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی ایسا حق لازم نہیں ہے جس کا کرنا اس کو ضروری ہو کیونکہ وہ ہمارا مالک و مختار ہے جو چاہے سو کرے، اس سے کسی کی مجال نہیں کہ کچھ پوچھ بھی سکے، پر ہمارے مالک نے اپنی عنایت اور فضل سے بندوں کے حق اپنے ذمے لئے ہیں، جن کو وہ ضرور پورا کرے گا، اس لئے کہ وہ سچا ہے، اس کا وعدہ بھی سچا ہے، اہل سنت کا یہی مذہب ہے۔ معتزلہ اپنی گمراہی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر نیک بندوں کو جنت میں لے جانا، اور بروں کو سزا دینا واجب ہے اور ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا وعدہ کیا ہے، لیکن واجب اس پر کچھ نہیں ہے، نہ کسی کا کوئی زور بھی اس پر چل سکتا ہے، نہ کسی کی مجال ہے کہ اس کے سامنے کوئی ذرا بھی چون وچرا کر سکے، اگر وہ چاہے تو دم بھر میں سب بدکاروں اور کافروں اور منافقوں کو بخش دے، اور ان کو جنت میں لے جائے، اور جتنے نیک اور عابد اور متقی بندے ہیں، ان سب کو جہنم میں ڈال دے، غرض یہ سب کچھ اس کی قدرت کے لحاظ سے ممکن ہے، اور اس کو ایسا اختیار ہے، اگرچہ ایسا ظہور میں نہ آئے گا، کیونکہ اس کا وعدہ سچا ہے، اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ نیک بندوں کو میں جنت میں لے جاؤں گا، اور کافروں کو جہنم میں، ایسا ہی ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عطية العوفي: ضعيف مدلس ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 407
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4232، ومصباح الزجاجة: 293)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/21) (ضعیف) (سند میں عطیہ العوفی، فضیل بن مرزوق اور فضل بن موفق سب ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ا لضعیفہ: 24)
|
|
|
حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ إِسْمَاعِيل بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَشَّاءُونَ إِلَى الْمَسَاجِدِ فِي الظُّلَمِ، أُولَئِكَ الْخَوَّاضُونَ فِي رَحْمَةِ اللَّهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تاریکیوں میں مسجدوں کی جانب چل کر جانے والے ہی ( قیامت کے دن ) اللہ تعالیٰ کی رحمت میں غوطہٰ مارنے والے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 779]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الوليد عنعن ¤ وقال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،أبو رافع أجمعوا علي ضعفه“ أبو رافع إسماعيل بن رافع: ضعيف الحفظ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 407
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12555، ومصباح الزجاجة: 294) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں ابو رافع اسماعیل بن رافع ضعیف ہیں، نیز ولید بن مسلم مدلس ہیں، اور یہاں عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: 2059)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحُلَبِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الشِّيرَازِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَبْشَرِ الْمَشَّاءُونَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِنُورٍ تَامٍّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تاریکیوں میں ( نماز کے لیے ) چل کر جانے والے خوش ہو جائیں کہ ان کے لیے قیامت کے دن کامل نور ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 780]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4676، ومصباح الزجاجة: 295) (صحیح) (طرق و شواہد کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، ورنہ ابراہیم الحلبی صدوق ہیں، لیکن غلطیاں کرتے ہیں، اور یحییٰ شیرازی مقبول ہیں، عراقی نے اسے حسن غریب کہا ہے، نیز حاکم نے اس کی تصحیح کی ہے، اور ذہبی نے موافقت کی ہے، (مستدرک الحاکم 1/ 212)، اور ابن خزیمہ نے بھی تصحیح کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: 564، وصحیح ابی داود: 570)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَجْزَأَةُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدٍ مَوْلَى ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الصَّائِغُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تاریکیوں میں مسجدوں کی جانب چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی بشارت سنا دو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 781]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 401، ومصباح الزجاجة: 296) (صحیح) (سند میں سلیمان بن داود الصائغ ضعیف ہیں، لیکن دوسری سند سے یہ صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: 564، نیز بوصیری نے دس شاہد کا ذکر لیا ہے)
|
|
|
15: بَابُ : الأَبْعَدُ فَالأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ أَجْرًا
باب: مسجد سے جو جنتا زیادہ دور ہو گا اس کو مسجد میں آنے کا ثواب اسی اعتبار سے زیادہ ہو گا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ أَجْرًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسجد میں جو جتنا ہی دور سے آتا ہے ، اس کو اتنا ہی زیادہ اجر ملتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 782]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 49 (556)، (تحفة الأشراف: 13597)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/351، 428) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَار بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ الصَّلَاةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَتَوَجَّعْتُ لَهُ فَقُلْتُ: يَا فُلَانُ لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ الرَّمَضَ وَيَرْفَعُكَ مِنَ الْوَقَعِ وَيَقِيكَ هَوَامَّ الْأَرْضِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي بِطُنُبِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحَمَلْتُ بِهِ حِمْلًا حَتَّى أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَدَعَاهُ، فَسَأَلَهُ، فَذَكَرَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَذَكَرَ أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک انصاری شخص کا مکان انتہائی دوری پر تھا ، اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کی کوئی نماز نہیں چھوٹتی تھی ، مجھے اس کی یہ مشقت دیکھ کر اس پر رحم آیا ، اور میں نے اس سے کہا : اے ابوفلاں ! اگر تم ایک گدھا خرید لیتے جو تمہیں گرم ریت پہ چلنے ، پتھروں کی ٹھوکر اور زمین کے کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھتا ( تو اچھا ہوتا ) ! اس انصاری نے کہا : اللہ کی قسم میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے کسی گوشے سے ملا ہو ، اس کی یہ بات مجھے بہت ہی گراں گزری ۱؎ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور اس سے پوچھا ، تو اس نے آپ کے سامنے بھی وہی بات کہی ، اور کہا کہ مجھے نشانات قدم پر ثواب ملنے کی امید ہے ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس ثواب کی تم امید رکھتے ہو وہ تمہیں ملے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 783]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کہ یہ کیسا مسلمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہنا پسند نہیں کرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 49 (663)، سنن ابی داود/الصلاة 49 (557)، (تحفة الأشراف: 64)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/133) سنن الدارمی/الصلاة 60 (1321) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَرَادَتْ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْ دِيَارِهِمْ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ، فَكَرِهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْرُوا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ: " يَا بَنِي سَلِمَةَ أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ"، فَأَقَامُوا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے پرانے گھروں کو جو مسجد نبوی سے فاصلہ پر تھے چھوڑ کر مسجد نبوی کے قریب آ رہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی ویرانی کو مناسب نہ سمجھا ، اور فرمایا : ” بنو سلمہ ! کیا تم اپنے نشانات قدم میں ثواب کی نیت نہیں رکھتے ؟ “ ، یہ سنا تو وہ وہیں رہے جہاں تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 784]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 654)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 33 (655)، مسند احمد (3/106، 182، 263) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كَانَتْ الْأَنْصَارُ بَعِيدَةً مَنَازِلُهُمْ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَأَرَادُوا أَنْ يَقْتَرِبُوا، فَنَزَلَتْ: وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ سورة يس آية 12، قَالَ: فَثَبَتُوا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انصار کے مکانات مسجد نبوی سے کافی دور تھے ، ان لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب آ جائیں تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : «ونكتب ما قدموا وآثارهم» ” ہم ان کے کئے ہوئے اعمال اور نشانات قدم لکھیں گے “ ( يسين : 12 ) تو وہ اپنے مکانوں میں رک گئے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 785]
💡 وضاحت:
ا؎: ان حدیثوں کے خلاف وہ حدیث نہیں ہے کہ گھر کی نحوست یہ ہے کہ وہاں اذان سنائی نہ دے، کیونکہ یہ نحوست اس وجہ سے ہے کہ اکثر ایسے گھر میں رہنے سے جماعت چھوٹ جاتی ہے، نماز کا وقت معلوم نہیں ہوتا، اور ان حدیثوں میں اس شخص کی فضیلت ہے جو دور سے مسجد آئے، اور جماعت میں شریک ہو، اور ابن کثیر نے تصریح کی ہے کہ جو گھر مسجد سے زیادہ دور ہو وہی افضل ہے، امام مسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہمارے گھر مسجد سے زیادہ دور تھے ہم نے چاہا کہ ان کو بیچ ڈالیں اور مسجد کے قریب آ رہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو منع کیا، اور فرمایا: ”تم کو ہر قدم پر ایک درجہ ملے گا“، اور امام احمد نے روایت کی ہے کہ مسجد سے دور جو گھر ہو اس کی فضیلت مسجد سے قریب والے گھر پر ایسی ہے جیسے سوار کی فضیلت بیٹھے ہوئے شخص پر۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سماك عن عكرمة: ضعيف ¤ و للحديث شاھد ضعيف عند الترمذي (3226) والحديث السابق (الأصل: 784) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 407
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6127، ومصباح الزجاجة: 297) (صحیح) (سماک کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے)
|
|
|
16: بَابُ : فَضْلِ الصَّلاَةِ فِي جَمَاعَةٍ
باب: جماعت سے نماز پڑھنے کی فضیلت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ، وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر میں یا بازار میں تنہا نماز پڑھنے سے بیس سے زیادہ درجہ افضل ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 786]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ جب ہے کہ گھر میں وہ اکیلے نماز ادا کرے، اسی طرح بازار میں، دوسری روایت میں ستائیس درجے زیادہ کا ذکر ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 87 (477)، الأذان 30 (647)، 31 (648)، البیوع 49 (2119)، صحیح مسلم/المساجد 42 (649)، 49 (649)، سنن ابی داود/الصلاة 49 (559)، (تحفة الأشراف: 12502)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 47 (215)، سنن النسائی/الإمامة 42 (838)، موطا امام مالک/الجماعة 1 (2)، مسند احمد (2/252، 264، 266، 273، 328، 396، 454، 473، 475، 485، 486، 520، 525، 529)، سنن الدارمی/الصلاة 56 (1312) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فَضْلُ الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلَاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ جُزْءًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جماعت کی فضیلت تم میں سے کسی کے اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 787]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13112)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/264، 396)، سنن الدارمی/الصلاة 56 (1312) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر میں تنہا نماز پڑھنے سے پچیس درجہ افضل ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 788]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 49 (560)، (تحفة الأشراف: 4157)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 30 (647)، مسند احمد (3/55) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ رُسْتَةُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَفْضُلُ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کا جماعت کی نماز تنہا پڑھی گئی نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 789]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے پہلی والی حدیث میں نماز باجماعت کی فضیلت (۲۵) گنا کا ذکر ہے اور اس حدیث میں (۲۷) گنا فضیلت بتائی گئی ہے، اس کی توجیہ علماء نے یہ کی ہے کہ یہ فضیلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے (۲۵) گنا بتلائی گئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مزید اضافہ فرما کر اسے (۲۷) گنا کر دیا، اور بعض نے کہا کہ یہ کمی بیشی نماز میں خشوع و خضوع اور اس کے سنن و آداب کی حفاظت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 42 (65)، (تحفة الأشراف: 8184)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان30 (645)، 31 (649)، سنن الترمذی/الصلاة 47 (215)، سنن النسائی/الامامة 42 (836)، موطا امام مالک/الجماعة 1 (1)، مسند احمد (2/17، 65، 102، 112)، سنن الدارمی/الصلاة 56 (1313) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ أَوْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کا جماعت کی نماز تنہا پڑھی ہوئی نماز پر چوبیس یا پچیس درجہ فضیلت رکھتی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 790]
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون قوله أربعا وعشرين
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 48 (554)، سنن النسائی/الإمامة 45 (844)، (تحفة الأشراف: 36) (حسن) (صحیح أبی داود: 563)
|
|
|
17: بَابُ : التَّغْلِيظِ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ الْجَمَاعَةِ
باب: جماعت سے پیچھے رہنے پر سخت وعید کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا پختہ ارادہ ہوا کہ نماز پڑھنے کا حکم دوں اور اس کے لیے اقامت کہی جائے ، پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے ، اور میں کچھ ایسے لوگوں کو جن کے ساتھ لکڑیوں کا گٹھر ہو ، لے کر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ہیں ، اور ان کے ساتھ ان کے گھروں کو آگ لگا دوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 791]
💡 وضاحت:
۱؎: ابن القیم کہتے ہیں: ظاہر ہے کہ گھر کا جلانا صغیرہ گناہ پر نہیں ہوتا، تو جماعت کا ترک کرنا کبیرہ گناہ ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع سے اپنی وفات تک جماعت پر مواظبت فرمائی، اور جس نے اذان سنی گرچہ وہ اندھا ہو اس کو جماعت کے ترک کی اجازت نہ دی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 47 (548)، (تحفة الأشراف: 12527)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 29 (644)، 34 (657)، الخصومات 5 (2420)، الأحکام 52 (7224)، صحیح مسلم/المساجد 42 (651)، سنن النسائی/الإمامة 49 (849)، موطا امام مالک/الجماعة 1 (3)، مسند احمد (2/244، 376، 489، 480، 531)، سنن الدارمی/الصلاة 54 (1310) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنْ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي كَبِيرٌ ضَرِيرٌ شَاسِعُ الدَّارِ، وَلَيْسَ لِي قَائِدٌ يُلَاوِمُنِي، فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ رُخْصَةٍ؟ قَالَ: " هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " مَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً".
عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : میں بوڑھا اور نابینا ہوں ، میرا گھر دور ہے اور مجھے مسجد تک لانے والا میرے مناسب حال کوئی آدمی بھی نہیں ہے ، تو کیا آپ میرے لیے ( جماعت سے غیر حاضری کی ) کوئی رخصت پاتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم اذان سنتے ہو ؟ “ ، میں نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 792]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے جماعت کی بڑی اہمیت و تاکید ثابت ہوتی ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو جماعت سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہ دی، حالانکہ وہ اندھے تھے، اور انہوں نے کہا کہ میرے پاس کوئی آدمی بھی نہیں ہے جو مجھ کو پکڑ کر لائے، کیونکہ ان کا گھر مسجد سے بہت دور نہ تھا، وہ اذان کی آواز سنتے تھے اور بغیر آدمی کے آ سکتے تھے، اور بعضوں نے کہا: حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمہارے لیے جماعت کا ترک جائز نہیں کیونکہ اندھا ہونا جماعت سے معافی کے لئے قوی عذر ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی جماعت ان کے اندھے ہونے کی وجہ سے معاف کی، بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے لئے ایسی رخصت نہیں پاتا کہ تم جماعت میں حاضر نہ ہو، اور جماعت کا ثواب نہ پاؤ، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (552) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 407
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 47 (552)، (تحفة الأشراف: 10788)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة 50 (852)، مسند احمد (3/423) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يَأْتِهِ، فَلَا صَلَاةَ لَهُ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے اذان سنی لیکن مسجد میں نہیں آیا تو اس کی نماز نہیں ہو گی ، الا یہ کہ کوئی عذر ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 793]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 47 (551)، (تحفة الأشراف: 5560) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَابْنُ عُمَرَ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِهِ: " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجَمَاعَاتِ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ، ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ".
عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم خبر دیتے ہیں کہ ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا : ” لوگ نماز باجماعت چھوڑنے سے ضرور باز آ جائیں ، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا ، پھر ان کا شمار غافلوں میں ہونے لگے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 794]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایمان کا نور ان کے دلوں سے جاتا رہے گا، اور عبادت کی لذت اور حلاوت ان کو حاصل نہ ہو گی، یا عبادت کا اثر ان کے دلوں پر نہ ہو گا، اور دل میں غفلت اور تاریکی بھر جائے گی، یہ فرمودہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مجرب ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجمعة 12 (865)، سنن النسائی/الجمعة 2 (1371)، (تحفة الأشراف: 6696)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/239، 254، 335، 2/84)، سنن الدارمی/الصلاة 205 (1611) (صحیح) (صحیح مسلم میں یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اور اس میں الجمعات ہے، جس کو البانی صاحب نے محفوظ بتایا ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2967)
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْهُذَلِيُّ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الزَّبْرِقَانِ بْنِ عَمْرٍو الضَّمْرِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ عَنْ تَرْكِ الْجَمَاعَةِ أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ بُيُوتَهُمْ".
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگ جماعتوں کے چھوڑنے سے ضرور باز رہیں ، ورنہ میں ان کے گھروں کو آگ لگا دوں گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 795]
💡 وضاحت:
۱؎: اس باب کی احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ نماز جماعت فرض ہے، جماعت کی حاضری بہت ضروری ہے جماعت کے ترک کی رخصت صرف چند صورتوں میں ہے: سخت سردی، بارش کی رات، کوئی سخت ضرورت ہو جیسے بھوک لگی ہو اور کھانا تیار ہو، پیشاب و پاخانہ کی حاجت ہو بصورت دیگر سستی یا کاہلی کے سبب جماعت ترک کرنا جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 90، ومصباح الزجاجة: 298)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/206) (صحیح) (سند میں ولید بن مسلم مدلس ہیں، اور عثمان مجہول اور زبرقان کا سماع اسامہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن حدیث سابقہ شواہد سے صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: 381)
|
|
|
18: بَابُ : صَلاَةِ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ فِي جَمَاعَةٍ
باب: عشاء اور فجر باجماعت پڑھنے کی فضیلت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَصَلَاةِ الْفَجْرِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر لوگوں کو عشاء اور فجر کی نماز کا ثواب معلوم ہو جائے ، تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور آئیں ، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 796]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگر چل نہ سکے تو ہاتھ اور سرین (چوتڑ) کے بل جماعت میں آئیں، اس حدیث سے عشاء اور فجر کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان دونوں نمازوں کا وقت نیند اور سستی کا وقت ہوتا ہے، اور نفس پر بہت شاق ہوتا ہے کہ آرام چھوڑ کر نماز کے لئے حاضر ہو، اور جو عبادت نفس پر زیادہ شاق ہو اس میں زیادہ ثواب ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17428)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/80) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَصَلَاةُ الْفَجْرِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” منافقین پر سب سے بھاری عشاء اور فجر کی نماز ہے ، اگر وہ ان دونوں نمازوں کا ثواب جان لیں تو مسجد میں ضرور آئیں گے ، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 797]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 28 (651)، (تحفة الأشراف: 12521)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 9 (615)، 32 (654)، 72 (721)، الشہادات30 (2689)، سنن الترمذی/الصلاة 52 (225)، سنن النسائی/المواقیت 21 (541)، موطا امام مالک/الصلاة 1 (3)، مسند احمد (2/236، 278، 303، 375، 376، 424، 466)، سنن الدارمی/الصلاة 53 (1309) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدٍ جَمَاعَةً أَرْبَعِينَ لَيْلَةً لَا تَفُوتُهُ الرَّكْعَةُ الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا عِتْقًا مِنَ النَّارِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” جس شخص نے مسجد میں چالیس دن تک جماعت کے ساتھ نماز پڑھی ، اور نماز عشاء کی پہلی رکعت فوت نہ ہوئی ، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس کے لیے جہنم سے آزادی لکھ دے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 798]
💡 وضاحت:
۱؎: اور ابوداؤد میں ہے کہ ہر شے کی ایک عمدگی ہے، اور نماز کی عمدگی تکبیر اولی ہے، اس لئے اس پر محافظت کرو، نیز اس حدیث کی روشنی میں بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جس شخص نے جماعت کی پہلی رکعت پائی اس نے گویا تکبیر تحریمہ امام کے ساتھ پائی، کیونکہ دوسری روایت میں رکعت اولی کے بدل تکبیر اولی ہے، اور تکبیر اولی پانے میں تین قول ہیں، ایک یہ کہ امام کی تکبیر کے ساتھ ہی شریک ہو، دوسرے یہ کہ امام کی قرأت سے پہلے نماز میں شریک ہو جائے، تیسرے یہ کہ رکوع سے پہلے شریک ہو جائے، اور اخیر قول میں آسانی ہے، مولانا وحید الزمان فرماتے ہیں کہ صرف رکوع پانے سے بہت سے اہل حدیث کے نزدیک رکعت نہیں ہوتی، پس تکبیر اولی بھی نہ پائے، ہاں اگر اتنی مہلت پائے کہ سورۃ فاتحہ پڑھ لے تو وہ رکعت مل جائے گی، اور اس صورت میں گویا تکبیر اولی اس نے پا لی، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني:
حسن دون قوله لا تفوته الركعة الأولى من صلاة العشاء
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”عمارة لم يدرك أنسًا ولم يلقه‘‘ فالسند منقطع ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 407
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10415، ومصباح الزجاجة: 299) (حسن) (سند میں عمارة کی ملاقات انس رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، اور اسماعیل بن عیاش مدلس ہیں، ا س لئے لا تفوته الركعة الأولى من صلاة العشاء کا ٹکڑا صحیح نہیں، بقیہ حدیث دوسرے شواہد کی بناء پر درجہ حسن تک پہنچتی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2652)
|
|
|
19: بَابُ : لُزُومِ الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارِ الصَّلاَةِ
باب: مسجد میں بیٹھ کر نماز کے انتظار کی فضیلت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ، وَالْمَلَائِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِكُمْ، مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، يَقُولُونَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ، مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو کر نماز کے لیے رکے رہتا ہے تو وہ نماز ہی میں رہتا ہے ، اور فرشتے اس شخص کے لیے اس وقت تک دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس جگہ بیٹھا رہتا ہے جس جگہ اس نے نماز ادا کی ہے ، وہ کہتے ہیں : اے اللہ ! اسے بخش دے ، اے اللہ ! اس پر رحم کر ، اے اللہ ! اس کی توبہ قبول فرما ، یہ دعا یوں ہی جاری رہتی ہے جب تک کہ اس کا وضو نہ ٹوٹے ، اور جب تک وہ ایذا نہ دے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 799]
💡 وضاحت:
۱؎: فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ باوضو رہتا ہے، اگر وہ زبان یا ہاتھ سے کسی مسلمان کو تکلیف پہنچا دیتا ہے تو فرشتوں کی دعا بند ہو جاتی ہے، اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے مسجد میں ہمیشہ باوضو رہنا چاہئے، اگرچہ بے وضو بھی رہ سکتا ہے، مگر یہ فضیلت حاصل نہ ہو گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12548)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 35 (176)، الصلاة 61 (445)، 87 (477)، الأذان 30 (647)، 36 (659)، البیوع 49 (2119)، بدء الخلق (3229) 7 (649)، صحیح مسلم/المساجد 49 (649)، سنن ابی داود/الصلاة 20 (469)، سنن الترمذی/الصلاة 129 (330)، سنن النسائی/المساجد 40 (734)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 18 (54)، مسند احمد (2/266، 289، 312، 394، 415، 421، 486، 502) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا تَوَطَّنَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْمَسَاجِدَ لِلصَّلَاةِ وَالذِّكْرِ، إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ لَهُ كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مسلمان مسجد کو نماز اور ذکر الٰہی کے لیے اپنا گھر بنا لے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسا خوش ہوتا ہے جیسے کہ کوئی شخص بہت دن غائب رہنے کے بعد گھر واپس لوٹے ، تو گھر والے خوش ہوتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 800]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13389، ومصباح الزجاجة: 300)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/307، 328، 340، 453) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، فَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ، وَعَقَّبَ مَنْ عَقَّبَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْرِعًا قَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ، وَقَدْ حَسَرَ عَنْ رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: " أَبْشِرُوا، هَذَا رَبُّكُمْ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ، يَقُولُ: " انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي قَدْ قَضَوْا فَرِيضَةً، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ أُخْرَى".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی ، کچھ لوگ واپس چلے گئے ، اور کچھ لوگ پیچھے مسجد میں رہ گئے ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی کے ساتھ آئے ، آپ کا سانس پھول رہا تھا ، اور آپ کے دونوں گھٹنے کھلے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خوش ہو جاؤ ! یہ تمہارا رب ہے ، اس نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا ، اور تمہارا ذکر فرشتوں سے فخریہ فرما رہا ہے اور کہہ رہا ہے : فرشتو ! میرے بندوں کو دیکھو ، ان لوگوں نے ایک فریضے کی ادائیگی کر لی ہے ، اور دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 801]
💡 وضاحت:
۱؎: تیز تیز آنے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سانس پھول گیا اور گھٹنے کھل گئے، اس سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے، جو کہتے ہیں کہ گھٹنے ستر میں داخل نہیں، اس حدیث میں اللہ تعالی کا کلام کرنا، نزول فرمانا، خوش ہونا جیسی صفات کا ذکر ہے، ان کو اسی طرح بلا تاویل و تحریف ماننا ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ، ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8947، ومصباح الزجاجة: 301)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/ 197، 208) (صحیح) (ملا حظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 661)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسَاجِدَ، فَاشْهَدُوا لَهُ بِالْإِيمَانِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ سورة التوبة آية 18".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کسی شخص کو مسجد میں ( نماز کے لیے ) پابندی سے آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی شہادت دو “ ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله» ” اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پہ ایمان رکھتے ہیں “ ( سورة التوبة : ۱۸ ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 802]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الإیمان 9 (2617)، تفسیر القرآن 10 (3093)، (تحفة الأشراف: 4050)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/68، 76)، سنن الدارمی/الصلاة 23 (1259) (ضعیف) (اس سند میں رشدین بن سعد ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: المشکاة: 723)
|
|