سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 765
Sunan Ibn Majah 765
کتاب #5: کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
11: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ إِنْشَادِ الضَّوَالِّ فِي الْمَسْجِدِ
باب: مساجد میں گمشدہ چیزوں کو پکار کر ڈھونڈنا منع ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا وَجَدْتَهُ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ، تو ایک شخص نے کہا : میرا سرخ اونٹ کس کو ملا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کرے تمہیں نہ ملے ، مسجدیں خاص مقصد کے لیے بنائی گئی ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 765]
💡 وضاحت:
۱ ؎: مساجد اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی یاد کے لئے اور تلاوت قرآن اور وعظ اور تعلیم قرآن اور حدیث کے لئے بنائی گئی ہیں، اور علماء حق ہمیشہ مسجد میں دینی علوم کی تعلیم دیتے رہے، اور تعلیم میں کبھی بحث کی بھی ضرورت ہوتی ہے، حافظ ابن حجر نے کہا کہ مسجد میں نکاح پڑھنا درست ہے بلکہ سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 18 (569)، (تحفة الأشراف: 1936)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/349، 420) (صحیح)