سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 736
Sunan Ibn Majah 736
کتاب #5: کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
1: بَابُ : مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا
باب: اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنانے والے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا، بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضا جوئی کے لیے مسجد بنوائی ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ویسا ہی گھر بنائے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 736]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے مسجد کو دنیا کے گھروں پر فضیلت ہوتی ہے، ویسے ہی اس گھر کو جنت کے دوسرے گھروں پر فضیلت ہو گی، مقصد یہ نہیں ہے کہ مسجد کے برابر ہی جنت میں گھر بنے، «اللهم ارزقنا جنة الفردوس» آمين.
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 4 (533)، سنن الترمذی/الصلاة 120 (318)، (تحفةالأشراف: 9837)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 65 (450)، مسند احمد (1/61، 70)، سنن الدارمی/الصلاة 113 (1432) (صحیح)