سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 754
Sunan Ibn Majah 754
کتاب #5: کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
8: بَابُ : الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ
باب: گھروں میں مساجد بنانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ ، وَكَانَ قَدْ عَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَلْوٍ فِي بِئْرٍ لَهُمْ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ السَّالِمِيِّ ، وَكَانَ إِمَامَ قَوْمِهِ بَنِي سَالِمٍ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ مِنْ بَصَرِي وَإِنَّ السَّيْلَ يَأْتِي فَيَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي، وَيَشُقُّ عَلَيَّ اجْتِيَازُهُ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى فَافْعَلْ، قَالَ: " أَفْعَلُ"، فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ، وَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنْتُ لَهُ، وَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى قَالَ: " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ لَكَ مِنْ بَيْتِكَ؟" فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ احْتَبَسْتُهُ عَلَى خَزِيرَةٍ تُصْنَعُ لَهُمْ.
محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور ان کو وہ کلی یاد تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈول سے لے کر ان کے کنویں میں کر دی تھی ، انہوں نے عتبان بن مالک سالمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( جو اپنی قوم بنی سالم کے امام تھے اور غزوہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے تھے ) وہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری نظر کمزور ہو گئی ہے ، جب سیلاب آتا ہے تو وہ میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان حائل ہو جاتا ہے ، اسے پار کرنا میرے لیے دشوار ہوتا ہے ، اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے گھر تشریف لائیں اور گھر کے کسی حصے میں نماز پڑھ دیں ، تاکہ میں اس کو اپنے لیے مصلیٰ ( نماز کی جگہ ) بنا لوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ٹھیک ہے ، میں ایسا کروں گا “ ، اگلے روز جب دن خوب چڑھ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، اور اندر آنے کی اجازت طلب کی ، میں نے اجازت دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بیٹھے بھی نہ تھے کہ فرمایا : ” تم اپنے گھر کے کس حصہ کو پسند کرتے ہو کہ میں تمہارے لیے وہاں نماز پڑھ دوں ؟ “ ، میں جہاں نماز پڑھنا چاہتا تھا ادھر میں نے اشارہ کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی ، پھر میں نے آپ کو خزیرہ ( حلیم ) ۱؎ تناول کرنے کے لیے روک لیا جو ان لوگوں کے لیے تیار کیا جا رہا تھا ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 754]
💡 وضاحت:
۱؎: خزیرہ: یہ ایک قسم کا کھانا ہے جو گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر آٹا ڈال کر پکایا جاتا ہے، موجودہ دور میں یہ حلیم کے نام سے مشہور ہے۔ ۲؎: اس حدیث سے بہت سی باتیں نکلتی ہیں، گھر میں مسجد بنانا، چاشت کی نماز جماعت ادا کرنا، نابینا کے لئے جماعت سے معافی، غیر کے گھر میں جانے سے پہلے اجازت لینا، نفل نماز جماعت سے جائز ہونا وغیرہ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 45 (224)، 46 (225)، الأذان 40 (667)، 50 (686)، 154 (839)، التہجد 36 (1185)، الأطعمة 15 (5201)، صحیح مسلم/المساجد 47 (33)، سنن النسائی/الإمامة 10 (789)، 46 (845)، السھو 73 (1328)، (تحفة الأشراف: 9750، 11235)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصر الصلاة 24 (86)، مسند احمد (4/44، 5/449) (صحیح)