سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 755
Sunan Ibn Majah 755
کتاب #5: کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
8: بَابُ : الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ
باب: گھروں میں مساجد بنانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ الْمُقْرِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعَالَ فَخُطَّ لِي مَسْجِدًا فِي دَارِي أُصَلِّي فِيهِ، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا عَمِيَ، فَجَاءَ فَفَعَلَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ انصار کے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خبر بھیجی کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں مسجد کے لیے حد بندی کر دیں تاکہ میں اس میں نماز پڑھا کروں ، اور یہ اس لیے کہ وہ صحابی نابینا ہو گئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، اور ان کی مراد پوری کر دی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 755]
💡 وضاحت:
۱؎: انصاری آدمی سے مراد صحابی رسول عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں، جیسا کہ صحیحین میں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12814، ومصباح الزجاجة: 283) (صحیح)