سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 775
Sunan Ibn Majah 775
کتاب #5: کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
14: بَابُ : الْمَشْيِ إِلَى الصَّلاَةِ
باب: نماز کے لیے چل کر مسجد جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ ، بلکہ اطمینان سے چل کر آؤ ، امام کے ساتھ جتنی نماز ملے پڑھ لو ، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کر لو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 775]
💡 وضاحت:
۱؎: امام ترمذی نے کہا: علماء نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے، بعضوں نے کہا: جب تکبیر اولیٰ چھوٹ جانے کا ڈر ہو تو جلد چلے، اور بعضوں سے دوڑنا بھی منقول ہے، اور بعضوں نے جلدی چلنا، اور دوڑنا دونوں کو مکروہ کہا ہے، اور کہا ہے کہ سہولت اور اطمینان سے چلنا چاہئے، امام احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے، اور یہی صحیح ہے، اور اس حدیث میں ایسا ہی حکم ہے دوڑنے اور جلدی کرنے میں سوائے پریشانی کے کوئی فائدہ نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
حدیث سعید بن المسیب أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 28 (602)، (تحفة الأشراف: 13103)، وحدیث أبي سلمة أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 28 (602)، (تحفة الأشراف: 15128)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاذان 21 (636)، الجمعة 18 (908)، سنن ابی داود/الصلاة 55 (572)، سنن الترمذی/الصلاة 127 (327)، سنن النسائی/الإمامة 57 (862)، موطا امام مالک/الصلاة 1 (4)، مسند احمد (2/270، 282، 318، 382، 387، 427، 452، 460، 472، 489، 529، 532، 533)، سنن الدارمی/الصلاة 59 (1319) (صحیح)