سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 796
Sunan Ibn Majah 796
کتاب #5: کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
18: بَابُ : صَلاَةِ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ فِي جَمَاعَةٍ
باب: عشاء اور فجر باجماعت پڑھنے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَصَلَاةِ الْفَجْرِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر لوگوں کو عشاء اور فجر کی نماز کا ثواب معلوم ہو جائے ، تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور آئیں ، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 796]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگر چل نہ سکے تو ہاتھ اور سرین (چوتڑ) کے بل جماعت میں آئیں، اس حدیث سے عشاء اور فجر کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان دونوں نمازوں کا وقت نیند اور سستی کا وقت ہوتا ہے، اور نفس پر بہت شاق ہوتا ہے کہ آرام چھوڑ کر نماز کے لئے حاضر ہو، اور جو عبادت نفس پر زیادہ شاق ہو اس میں زیادہ ثواب ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17428)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/80) (صحیح)