سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 786
Sunan Ibn Majah 786
کتاب #5: کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
16: بَابُ : فَضْلِ الصَّلاَةِ فِي جَمَاعَةٍ
باب: جماعت سے نماز پڑھنے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ، وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر میں یا بازار میں تنہا نماز پڑھنے سے بیس سے زیادہ درجہ افضل ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 786]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ جب ہے کہ گھر میں وہ اکیلے نماز ادا کرے، اسی طرح بازار میں، دوسری روایت میں ستائیس درجے زیادہ کا ذکر ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 87 (477)، الأذان 30 (647)، 31 (648)، البیوع 49 (2119)، صحیح مسلم/المساجد 42 (649)، 49 (649)، سنن ابی داود/الصلاة 49 (559)، (تحفة الأشراف: 12502)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 47 (215)، سنن النسائی/الإمامة 42 (838)، موطا امام مالک/الجماعة 1 (2)، مسند احمد (2/252، 264، 266، 273، 328، 396، 454، 473، 475، 485، 486، 520، 525، 529)، سنن الدارمی/الصلاة 56 (1312) (صحیح)