سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 762
Sunan Ibn Majah 762
کتاب #5: کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
10: بَابُ : كَرَاهِيَةِ النُّخَامَةِ فِي الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں تھوکنے اور ناک جھاڑنے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ، حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَحَكَّتْهَا، وَجَعَلَتْ مَكَانَهَا خَلُوقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَحْسَنَ هَذَا".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار قبلہ پر بلغم دیکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصہ ہوئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا ، اتنے میں قبیلہ انصار کی ایک عورت آئی اور اس نے اسے کھرچ دیا ، اور اس کی جگہ خوشبو لگا دی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کتنا اچھا کام ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 762]
💡 وضاحت:
۱؎: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی تعریف کی کہ اس نے مسجد سے کراہت کی چیز نکال ڈالی اور اس کے بعد قبلہ کی طرف خوشبو لگائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں دیوار صاف ہوتی تھی جب بھی کوئی اس پر تھوک دیتا وہ واضح طور پر نظر آتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/المساجد 35 (729)، (تحفة الأشراف: 698)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/188، 199، 200) (صحیح)