سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 739
Sunan Ibn Majah 739
کتاب #5: کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
2: بَابُ : تَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ
باب: مساجد کے سجانے اور اونچی بنانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت اس وقت قائم ہو گی ، جب لوگ مسجدوں کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگیں گے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 739]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں لوگ کہیں گے کہ ہماری مسجد فلاں کی مسجد سے زیادہ عمدہ، بلند اور پرشکوہ ہے، نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجدوں پر فخر کرنا قیامت کی نشانی ہے، لیکن مسجدوں کو آراستہ اور بلند کرنے کی ممانعت نہیں نکلتی، دوسری حدیثوں سے اس امر کی کراہت ثابت ہے، لیکن علماء نے کہا ہے کہ اس زمانہ میں مصلحتاً مساجد کی بلندی پر سکوت کرنا چاہئے کیونکہ یہود اور نصاری نے اپنے گرجاؤں کو بہت بلند اور عمدہ بنانا شروع کیا ہوا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 12 (449)، سنن النسائی/المساجد 2 (690)، (تحفة الأشراف: 951، ومصباح الزجاجة: 277)، مسند احمد (3/134، 145، 230، 283)، سنن الدارمی/الصلاة 123 (1448) (صحیح)