سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 742
Sunan Ibn Majah 742
کتاب #5: کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
3: بَابُ : أَيْنَ يَجُوزُ بِنَاءُ الْمَسَاجِدِ
باب: مسجد کس جگہ بنانی جائز ہے؟
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ، وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَمَقَابِرُ لِلْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَامِنُونِي بِهِ"، قَالُوا: لَا نَأْخُذُ لَهُ ثَمَنًا أَبَدًا، قَالَ: فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْنِيهِ وَهُمْ يُنَاوِلُونَهُ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَلَا إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهِ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهِ"، قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ الْمَسْجِدَ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کی زمین قبیلہ بنو نجار کی ملکیت تھی ، جس میں کھجور کے درخت اور مشرکین کی قبریں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : ” تم مجھ سے اس کی قیمت لے لو “ ، ان لوگوں نے کہا : ہم ہرگز اس کی قیمت نہ لیں گے ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنا رہے تھے اور صحابہ آپ کو ( سامان دے رہے تھے ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” سنو ! زندگی تو دراصل آخرت کی زندگی ہے ، اے اللہ ! تو مہاجرین اور انصار کو بخش دے “ ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مسجد کی تعمیر سے پہلے جہاں نماز کا وقت ہو جاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہیں نماز پڑھ لیتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 742]
💡 وضاحت:
۱؎: جس جگہ مسجد نبوی بنائی گئی وہ ویران اور غیر آباد جگہ تھی، اسی میں بعض مشرکین کی قبریں تھیں، جن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اکھاڑنے کا حکم دیا، تو قبریں اکھاڑ دیں گئیں، تب آپ نے مسجد کی بنیاد رکھی، تفصیل بخاری، مسلم، ابوداود وغیرہ کی روایات میں دیکھئے، نیز کوئی خاص جگہ متعین نہ تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا: ”زندگی تو دراصل آخرت کی زندگی ہے“ اگر سچ پوچھیں تو دنیا میں عیش ہی نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی فکر نہ ہو جب بھی مرنے کی اور بیماری کی فکر لگی رہتی ہے، عیش تو اسی وقت سے شروع ہو گا جب کسی کو جنت میں جانے کا حکم ہو جائے گا، اے اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت نصیب فرمائے آمین۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 48 (428)، فضائل المدینة 1 (1868)، فضائل الأنصار46 (3932)، صحیح مسلم/المساجد 1 (524)، سنن ابی داود/الصلاة 12 (453، 358)، سنن النسائی/المساجد 12 (703)، (تحفة الأشراف: 1691)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/118، 123، 212، 244) (صحیح)