سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 791
Sunan Ibn Majah 791
کتاب #5: کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
17: بَابُ : التَّغْلِيظِ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ الْجَمَاعَةِ
باب: جماعت سے پیچھے رہنے پر سخت وعید کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا پختہ ارادہ ہوا کہ نماز پڑھنے کا حکم دوں اور اس کے لیے اقامت کہی جائے ، پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے ، اور میں کچھ ایسے لوگوں کو جن کے ساتھ لکڑیوں کا گٹھر ہو ، لے کر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ہیں ، اور ان کے ساتھ ان کے گھروں کو آگ لگا دوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 791]
💡 وضاحت:
۱؎: ابن القیم کہتے ہیں: ظاہر ہے کہ گھر کا جلانا صغیرہ گناہ پر نہیں ہوتا، تو جماعت کا ترک کرنا کبیرہ گناہ ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع سے اپنی وفات تک جماعت پر مواظبت فرمائی، اور جس نے اذان سنی گرچہ وہ اندھا ہو اس کو جماعت کے ترک کی اجازت نہ دی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 47 (548)، (تحفة الأشراف: 12527)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 29 (644)، 34 (657)، الخصومات 5 (2420)، الأحکام 52 (7224)، صحیح مسلم/المساجد 42 (651)، سنن النسائی/الإمامة 49 (849)، موطا امام مالک/الجماعة 1 (3)، مسند احمد (2/244، 376، 489، 480، 531)، سنن الدارمی/الصلاة 54 (1310) (صحیح)