سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 801
Sunan Ibn Majah 801
کتاب #5: کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
19: بَابُ : لُزُومِ الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارِ الصَّلاَةِ
باب: مسجد میں بیٹھ کر نماز کے انتظار کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، فَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ، وَعَقَّبَ مَنْ عَقَّبَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْرِعًا قَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ، وَقَدْ حَسَرَ عَنْ رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: " أَبْشِرُوا، هَذَا رَبُّكُمْ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ، يَقُولُ: " انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي قَدْ قَضَوْا فَرِيضَةً، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ أُخْرَى".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی ، کچھ لوگ واپس چلے گئے ، اور کچھ لوگ پیچھے مسجد میں رہ گئے ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی کے ساتھ آئے ، آپ کا سانس پھول رہا تھا ، اور آپ کے دونوں گھٹنے کھلے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خوش ہو جاؤ ! یہ تمہارا رب ہے ، اس نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا ، اور تمہارا ذکر فرشتوں سے فخریہ فرما رہا ہے اور کہہ رہا ہے : فرشتو ! میرے بندوں کو دیکھو ، ان لوگوں نے ایک فریضے کی ادائیگی کر لی ہے ، اور دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 801]
💡 وضاحت:
۱؎: تیز تیز آنے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سانس پھول گیا اور گھٹنے کھل گئے، اس سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے، جو کہتے ہیں کہ گھٹنے ستر میں داخل نہیں، اس حدیث میں اللہ تعالی کا کلام کرنا، نزول فرمانا، خوش ہونا جیسی صفات کا ذکر ہے، ان کو اسی طرح بلا تاویل و تحریف ماننا ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ، ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8947، ومصباح الزجاجة: 301)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/ 197، 208) (صحیح) (ملا حظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 661)