سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 803
Sunan Ibn Majah 803
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
1: بَابُ : افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ
باب: نماز شروع کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ".
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو قبلہ رخ ہوتے ، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر «الله أكبر» کہتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 803]
💡 وضاحت:
۱؎: اس تکبیر کو تکبیر تحریمہ کہتے ہیں، جو متفقہ طور پر نماز میں فرض ہے، علماء اہل حدیث کے نزدیک جلسہ اولیٰ اور جلسۂ استراحت کے سوا، نماز کے تمام ارکان جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، فرض ہیں، اور تکبیر تحریمہ اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور تشہد اخیر اور سلام کے علاوہ اذکار نماز میں سے کوئی ذکر واجب نہیں ہے، اس کے علاوہ اور ادعیہ و اذکار سنت ہیں، اب تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانا کانوں تک یا مونڈھوں تک دونوں طرح وارد ہے، اور یہ سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 45 (828)، سنن ابی داود/الصلاة 117 (964، 965)، سنن الترمذی/الصلاة 78 (304، 305)، سنن النسائی/التطبیق 6 (1040)، (تحفة الأشراف: 11897)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/424) سنن الدارمی/الصلاة 32 (1273) (صحیح)