سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1152
Sunan Ibn Majah 1152
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
103: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ صَلاَةَ إِلاَّ الْمَكْتُوبَةُ
باب: فرض نماز کی اقامت کے بعد کوئی اور نماز نہ پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ لَهُ: " بِأَيِّ صَلَاتَيْكَ اعْتَدَدْتَ".
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو نماز فجر سے پہلے دو رکعت پڑھ رہا تھا ، اس وقت آپ فرض پڑھ رہے تھے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ” اپنی دونوں نماز میں سے کس نماز کا تم نے اعتبار کیا ؟ “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1152]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی وہ جو تم نے اکیلے پڑھی یا وہ جو امام کے ساتھ پڑھی، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ جب امام نماز کے لئے کھڑا ہو، تو اب فرض نماز کے علاوہ دوسری نماز نہ پڑھنی چاہئے، چاہے وہ فجر کی سنت ہی کیوں نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 9 (712)، سنن ابی داود/الصلاة 294 (1265)، سنن النسائی/الإمامة 61 (869)، (تحفة الأشراف: 5319)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/82) (صحیح)