سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1098
Sunan Ibn Majah 1098
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
83: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الزِّينَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن زیب و زینت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذَا يَوْمُ عِيدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ، فَمَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ، وَإِنْ كَانَ طِيبٌ فَلْيَمَسَّ مِنْهُ، وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ عید کا دن ہے ، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اسے عید کا دن قرار دیا ہے ، لہٰذا جو کوئی جمعہ کے لیے آئے تو غسل کر کے آئے ، اور اگر خوشبو میسر ہو تو لگا لے ، اور تم لوگ اپنے اوپر مسواک کو لازم کر لو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1098]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ غسل نماز جمعہ کے لئے مسنون ہے نہ کہ جمعہ کے دن کے لئے، اور بعضوں نے کہا: جمعہ کے دن کے لئے مسنون ہے، پس جس پر جمعہ فرض نہ ہو، جیسے عورت، مریض، مسافر یا نابالغ اور وہ جمعہ کی نماز کے لئے آنے کا ارادہ بھی نہ رکھتا ہو تو اس کو بھی غسل کرنا مستحب ہو گا، اور پہلے قول کے لحاظ سے جن پر جمعہ فرض نہیں ہے ان پر غسل نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده ضعيف ¤ صالح بن أبي الأخضر لينه الجمهور و علي بن غراب والزهري مدلسان و عنعنا إن صح السند إلي الزهري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 535
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5870، ومصباح الزجاجة: 390)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 32 (113) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں علی بن غراب اور صالح بن ابی الأخضر ضعیف ہیں، منذری نے اس کو حسن کہا ہے، الترغیب و الترہیب 1/498، نیز ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: 394 بتحقیق الشہری)