سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 939
Sunan Ibn Majah 939
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
35: بَابُ : الْجَمَاعَةِ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ
باب: بارش کی رات میں باجماعت نماز کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ " أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ أَنْ يُؤَذِّنَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَطِيرٌ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: نَادِ فِي النَّاسِ فَلْيُصَلُّوا فِي بُيُوتِهِمْ، فَقَالَ لَهُ النَّاسُ: مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتَ؟ قَالَ: قَدْ فَعَلَ هَذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، تَأْمُرُنِي أَنْ أُخْرِجَ النَّاسَ مِنْ بُيُوتِهِمْ فَيَأْتُونِي يَدُوسُونَ الطِّينَ إِلَى رُكَبِهِمْ".
عبداللہ بن حارث بن نوفل سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مؤذن کو جمعہ کے دن اذان دینے کا حکم دیا ، اور یہ بارش کا دن تھا ، تو مؤذن نے کہا : «الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله» ، پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : «حي على الصلاة ، حي على الفلاح» کی جگہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ اپنے گھروں میں نماز ادا کر لیں ، لوگوں نے یہ سنا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہنے لگے آپ نے یہ کیا کیا ؟ انہوں نے کہا : یہ کام اس شخصیت نے کیا ہے ، جو مجھ سے افضل تھی ، اور تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالوں کہ وہ میرے پاس جمعہ کے لیے اپنے گھٹنوں تک کیچڑ سے لت پت آئیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 939]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم ¤ -
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 10 (616)، صحیح مسلم/المسافرین 3 (699)، سنن ابی داود/الصلاة 214 (1066)، (تحفة الأشراف: 5783)، مسند احمد (1/277) (صحیح)