سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1175
Sunan Ibn Majah 1175
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
116: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ بِرَكْعَةٍ
باب: ایک رکعت وتر پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ"، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ غَلَبَتْنِي عَيْنِي، أَرَأَيْتَ إِنْ نِمْتُ؟، قَالَ: " اجْعَلْ أَرَأَيْتَ عِنْدَ ذَلِكَ النَّجْمِ"، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا السِّمَاكُ، ثُمَّ أَعَادَ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ قَبْلَ الصُّبْحِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رات کی نماز دو دو رکعت اور وتر ایک رکعت ہے “ ، ابومجلز ( لاحق بن حمید ) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ مجھے بتائیے کہ اگر میری آنکھ لگ جائے ، اگر میں سو جاؤں ؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : اگر مگر اس ستارے کے پاس لے جاؤ ، میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو ستارہ سماک ۱؎ چمک رہا تھا ، پھر انہوں نے وہی جملہ دہرایا ، اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” رات کی نماز دو دو رکعت ہے ، اور وتر صبح سے پہلے ایک رکعت ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1175]
💡 وضاحت:
۱؎: «سماک» : ایک ستارہ کا نام ہے، «سما کان» : دو روشن ستارے، ایک کا نام «السماء الرامح» ہے، دوسرے کا «السماء الأعزل» ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8560) (صحیح)