سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1215
Sunan Ibn Majah 1215
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
134: . بَابُ : فِيمَنْ سَلَّمَ مِنْ ثِنْتَيْنِ أَوْ ثَلاَثٍ سَاهِيًا
باب: دوسری یا تیسری رکعت میں بھول کر سلام پھیر دے تو اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، قَالَ: " سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَةَ"، فَقَامَ الْخِرْبَاقُ رَجُلٌ بَسِيطُ الْيَدَيْنِ، فَنَادَى: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟" فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَسَأَلَ، فَأُخْبِرَ، فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ الَّتِي كَانَ تَرَكَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر میں تین ہی رکعت پر سلام پھیر دیا ، پھر اٹھے اور حجرہ میں تشریف لے گئے ، تو لمبے ہاتھوں والے خرباق ( رضی اللہ عنہ ) کھڑے ہوئے اور پکارا : اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہو گئی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کی حالت میں اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے نکلے ، اور لوگوں سے پوچھا ، تو اس کے بارے میں آپ کو خبر دی گئی ، تو آپ نے چھوٹی ہوئی ایک رکعت پڑھائی ، پھر سلام پھیرا ، پھر دو سجدے کئے ، پھر سلام پھیرا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1215]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 19 (574)، سنن ابی داود/الصلاة 202 (1018)، سنن النسائی/السہو 23 (1238)، (تحفة الأشراف: 10882)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 174 (395)، مسند احمد (4/427، 431، 440، 5/110) (صحیح)