📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل (كتاب إقامة الصلاة والسنة) 🏷️ باب: باب: سلام سے پہلے سجدہ سہو کا بیان۔
عربی:
اردو:
135: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلاَمِ
باب: سلام سے پہلے سجدہ سہو کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بَكِيرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَيَدْخُلُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نَفْسِهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ زَادَ أَوْ نَقَصَ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ يُسَلِّمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شیطان تم میں سے کسی کے پاس نماز کی حالت میں آتا ہے ، اور انسان اور اس کے دل کے درمیان داخل ہو کر وسوسے ڈالتا ہے ، یہاں تک کہ آدمی نہیں جان پاتا کہ اس نے زیادہ پڑھی یا کم پڑھی ، جب ایسا ہو تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے ، پھر سلام پھیرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1216]
💡 وضاحت:
۱؎: سجدہ سہو کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے کہ آدمی اسے سلام سے پہلے کرے، یا سلام کے بعد، بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اسے سلام کے بعد کرے، یہ قول سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا کہ اسے سلام سے پہلے کرے، یہی قول اکثر فقہائے مدینہ مثلاً یحیی بن سعید، ربیعہ اور امام شافعی وغیرہ کا ہے، اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سجدہ سہو سلام کے بعد کرے، اور جب کمی رہ گئی ہو تو سلام سے پہلے کرے، یہ قول مالک بن انس کا ہے، اور امام احمد کہتے ہیں کہ جس صورت میں جس طرح پر سجدہ سہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اس صورت میں اسی طرح سجدہ سہو کرے، وہ کہتے ہیں کہ جب دو رکعت کے بعد کھڑا ہو جائے تو ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مطابق سلام سے پہلے سجدہ کرے اور جب ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھ لے تو وہ سجدہ سلام کے بعد کرے، اور اگر ظہر و عصر کی نماز میں دو ہی رکعت میں سلام پھیر دے تو ایسی صورت میں سلام کے بعد سجدہ سہو کرے، اسی طرح جس صورت میں جیسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل موجود ہے، اس پر اس طرح عمل کرے، اور جس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فعل مروی نہ ہو تو اس میں سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 31 (516)، 198 (1032)، (تحفة الأشراف: 15252)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 4 (608)، صحیح مسلم/المساجد 19 (389)، سنن الترمذی/الصلاة 174 (397)، موطا امام مالک/السہو 1 (1) (حسن صحیح) ( قبل أن یسلم کا جملہ صحیح نہیں ہے)
سنن ابن ماجه • حدیث #1216
1214 1215 1216 1217 1218

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1217 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بَكِيرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاق ، أَ...
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک شیطان انسان اور ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ