سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1217
Sunan Ibn Majah 1217
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
135: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلاَمِ
باب: سلام سے پہلے سجدہ سہو کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بَكِيرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ بَيْنَ ابْنِ آدَمَ وَبَيْنَ نَفْسِهِ، فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک شیطان انسان اور اس کے دل کے درمیان داخل ہو جاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ؟ جب ایسا ہو تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1217]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شک کی صورت میں سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے، امام احمد نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے اور بخاری، اور مسلم نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے ایسا ہی روایت کیا ہے، اور مغیرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں کمی کی صورت میں سلام کے بعد سجدہ منقول ہے، غرض اس باب میں مختلف حدیثیں وارد ہیں، کسی میں سلام سے پہلے سجدہ سہو منقول ہے، کسی میں سلام کے بعد، اس لیے اہل حدیث نے دونوں طرح جائز رکھا ہے، اور اسی کو صحیح مذہب قرار دیا ہے تاکہ سب حدیثوں پر عمل ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14962)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 4 (608)، العمل في الصلاة 18 (1222)، السہو 6 (1231)، بدء الخلق 11 (3285)، صحیح مسلم/السہو19 (389) سنن ابی داود/الصلاة 31 (516)، مسند احمد (2/313، 398، 411) (حسن صحیح)