سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1419
Sunan Ibn Majah 1419
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
200: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي طُولِ الْقِيَامِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں قیام لمبا کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، سَمِعَ الْمُغِيرَةَ ، يَقُولُ: " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا".
مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، یہاں تک کہ آپ کے پیروں میں ورم آ گیا ، تو عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دئیے ہیں ( پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں ( اللہ کا ) شکر گزار بندہ نہ بنوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1419]
💡 وضاحت:
۱؎: اس مغفرت پر شکر نہ ادا کروں؟ سبحان اللہ! جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باوصف ایسے علو مرتبہ اور جلالت شان کے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد آپ کا درجہ ہے، عبادت کو ترک نہ کیا، اور دوسرے لوگوں سے زیادہ آپ اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت و عبادت اور ذکر الٰہی میں مصروف رہتے تھے، تو کسی دوسرے کا یہ خیال کب صحیح ہو گا کہ آدمی جب ولایت کے اعلی درجہ کو پہنچ جاتا ہے تو اس کے ذمہ سے عبادت ساقط ہو جاتی ہے، یہ صاف ملحدانہ خیال ہے، بلکہ جتنا بندہ اللہ سے زیادہ قریب ہوتا جاتا ہے اتنا ہی اس کا شوق عبادت بڑھتا جاتا ہے، دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات نماز میں کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ما أنزلنا عليك القرآن لتشقى» یعنی ہم نے آپ پر اس لئے قرآن نہیں اتارا کہ آپ اتنی مشقت اٹھائیں (سورة طه: 2)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التہجد 6 (1130)، تفسیرالفتح 2 (4836)، الرقاق 20 (6471)، صحیح مسلم/المنافقین 18 (2819)، سنن الترمذی/الصلاة 188 (412)، سنن النسائی/قیام اللیل 15 (1645)، (تحفة الأشراف: 11498)، مسند احمد (4/251، 255) (صحیح)