سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1077
Sunan Ibn Majah 1077
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
76: بَابُ : كَمْ يَقْصُرُ الصَّلاَةَ الْمُسَافِرُ إِذَا أَقَامَ بِبَلْدَةٍ
باب: جب مسافر کسی مقام پر ٹھہرے تو کتنے دنوں تک قصر کر سکتا ہے؟
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى رَجَعْنَا"، قُلْتُ: كَمْ أَقَامَ بِمَكَّةَ، قَالَ: عَشْرًا.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے اور واپسی تک دو دو رکعت نماز پڑھتے رہے ۔ یحییٰ کہتے ہیں : میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کتنے دنوں تک مکہ میں رہے ؟ کہا : دس دن تک ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1077]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تقصیرالصلاة 1 (1081)، المغازي 52 (4297)، صحیح مسلم/المسافرین 1 (693)، سنن ابی داود/الصلاة 279 (1233)، سنن الترمذی/الصلاة 275 (548)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة (1439)، (تحفة الأشراف: 1652)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/187، 190) (صحیح)