سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1312
Sunan Ibn Majah 1312
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
166: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَا إِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدَانِ فِي يَوْمٍ
باب: عید اور جمعہ ایک دن اکٹھا ہو جائیں تو کیسے کرے؟
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: اجْتَمَعَ عِيدَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ شَاءَ أَنْ يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ فَلْيَأْتِهَا، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَتَخَلَّفَ فَلْيَتَخَلَّفْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو عیدیں ( عید اور جمعہ ) اکٹھا ہو گئیں ، تو آپ نے لوگوں کو عید پڑھائی ، پھر فرمایا ” جو جمعہ کے لیے آنا چاہے آئے ، اور جو نہ چاہے نہ آئے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1312]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ جبارة بن المغلس ضعيف (تقريب: 890) ¤ و مندل بن علي ضعيف ¤ و الحديث السابق (الأصل: 1310) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 423
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7772، ومصباح الزجاجة: 462) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں دو راوی مندل و جبارہ ضعیف ہیں)