سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1170
Sunan Ibn Majah 1170
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
114: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ
باب: وتر کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ، أَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ"، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِكَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ طاق ( یکتا و بے نظیر ) ہے ، طاق کو پسند فرماتا ہے ، لہٰذا اے قرآن والو ! وتر پڑھا کرو ، ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں ؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1170]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1417) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 336 (1417)، (تحفة الأشراف: 9627) (صحیح)