سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1168
Sunan Ibn Majah 1168
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
114: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ
باب: وتر کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ لَهِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمُرِ النَّعَمِ الْوِتْرُ، جَعَلَهُ اللَّهُ لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ".
خارجہ بن حذافہ عدوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر مزید ایک نماز مقرر کی ہے ، جو تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ، وہ وتر کی نماز ہے ، اللہ نے اسے تمہارے لیے عشاء سے لے کر طلوع فجر کے درمیان مقرر کیا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1168]
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون قوله هي خير لكم من حمر النعم
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1418) ترمذي (452) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 336 (1418)، سنن الترمذی/الصلاة215 (452)، (تحفة الأشراف: 3450)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 208 (1617) (صحیح) (اس سند میں عبد اللہ بن راشد مجہول ہیں، اس لئے ھی خیر لکم من حمرالنعم کا ٹکڑا ضیعف ہے، بقیہ حدیث دوسرے طریق سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: 442 و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 108 و 1141، و ضعیف أبی داود: 255)