سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1169
Sunan Ibn Majah 1169
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
114: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ
باب: وتر کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : إِنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ، وَلَا كَصَلَاتِكُمُ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْتَرَ، ثُمَّ قَالَ: " يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، أَوْتِرُوا، فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر واجب نہیں ہے ، اور نہ وہ فرض نماز کی طرح ہے ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی پھر فرمایا : ” اے قرآن والو ! وتر پڑھو ، اس لیے کہ اللہ طاق ہے ، طاق ( عدد ) کو پسند فرماتا ہے ۱؎ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1169]
💡 وضاحت:
۱؎: قرآن والوں سے مراد قراء و حفاظ کی جماعت ہے، نہ کہ عامۃ الناس، اس کی تائید اگلی روایت میں «ليس لك ولا لأصحابك» کے جملہ سے ہو رہی ہے، جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک اعرابی سے کہا تھا، اس سے یہ معلوم ہوا کہ وتر واجب نہیں ہے، کیونکہ اگر واجب ہوتی تو حکم عام ہوتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1416) ترمذي (453) نسائي (1676) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 336 (1416)، سنن الترمذی/الصلاة 216 (453)، سنن النسائی/قیام اللیل 27 (1676)، (تحفة الأشراف: 10135)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/100، 110، 143، 144، 148)، سنن الدارمی/الصلاة 209 (1621) (صحیح لغیرہ) (تراجع الألبانی: رقم: 482)