سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1334
Sunan Ibn Majah 1334
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وعبد الوهاب ، ومحمد بن جعفر ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، انْجَفَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَقِيلَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لِأَنْظُرَ إِلَيْهِ، فَلَمَّا اسْتَبَنْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ".
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے ، اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں ، تو لوگوں کے ساتھ آپ کو دیکھنے کے لیے میں بھی آیا ، جب میں نے کوشش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا ، تو پہچان لیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے ، پہلی بات آپ نے جو کہی وہ یہ تھی کہ ” لوگو ! سلام کو عام کرو ، کھانا کھلاؤ ، اور رات کو نماز پڑھو ، جب کہ لوگ سوئے ہوں ، تب تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1334]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/القیامة 42 (2485)، (تحفة الأشراف: 5331)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/451)، سنن الدارمی/الصلاة 156 (1501)، (حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3251) (صحیح)