سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1415
Sunan Ibn Majah 1415
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
199: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي بَدْءِ شَأْنِ الْمِنْبَرِ
باب: منبر رسول پہلے کیسے بنا؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ، فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ ذَهَبَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَحَنَّ الْجِذْعُ، فَأَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ، فَسَكَنَ، فَقَالَ: لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کے سہارے خطبہ دیتے تھے ، جب منبر تیار ہو گیا تو آپ منبر کی طرف چلے ، وہ تنا رونے لگا تو آپ نے اسے اپنے گود میں لے لیا ، تو وہ خاموش ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں اسے گود میں نہ لیتا تو وہ قیامت تک روتا رہتا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1415]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 389، 6297، ومصباح الزجاجة: 500)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب 6 (3631)، مسند احمد (1/ 249، 267، 266، 363)، سنن الدارمی/المقدمة 6 (40) (صحیح)