سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1416
Sunan Ibn Majah 1416
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
199: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي بَدْءِ شَأْنِ الْمِنْبَرِ
باب: منبر رسول پہلے کیسے بنا؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ؟ فَأَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَسَأَلُوهُ: فَقَالَ: مَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، " هُوَ مِنْ أَثْلِ الغَابَةِ، عَمِلَهُ فُلَانٌ مَوْلَى فُلَانَةَ نَجَّارٌ، فَجَاءَ بِهِ، فَقَامَ عَلَيْهِ حِينَمَا وُضِعَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَهُ، فَقَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَرَجَعَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ بِالْأَرْضِ، ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَقَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ فَقَامَ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ بِالْأَرْضِ".
ابوحازم کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے بارے میں اختلاف کیا کہ وہ کس چیز کا بنا ہوا تھا ، تو لوگ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور ان سے پوچھا ؟ انہوں نے کہا : اب لوگوں میں کوئی ایسا باقی نہیں رہا جو اس منبر کا حال مجھ سے زیادہ جانتا ہو ، وہ غابہ ۱؎ کے جھاؤ کا تھا ، جس کو فلاں بڑھئی نے بنایا تھا ، جو فلاں عورت کا غلام تھا ، بہرحال وہ غلام منبر لے کر آیا ، جب وہ رکھا گیا تو آپ اس پر کھڑے ہوئے ، اور قبلہ کی طرف رخ کیا ، اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے ، آپ نے قراءت کی پھر رکوع کیا ، اور رکوع سے اپنا سر اٹھایا ، اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹے ، اور زمین پہ سجدہ کیا ، پھر منبر کی طرف لوٹ گئے ، اور قراءت کی ، پھر رکوع کیا پھر رکوع سے اٹھ کر سیدھے کھڑے ہوئے ، پھر الٹے پاؤں پیچھے لوٹے ، ( اور منبر سے اتر کر ) زمین پر سجدہ کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1416]
💡 وضاحت:
۱؎: غابہ: ایک مقام کا نام ہے، جو مدینہ سے نو میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 18 (377)، الجمعة 26 (917)، صحیح مسلم/المساجد 10 (544)، (تحفة الأشراف: 4690)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 221 (1080)، سنن النسائی/المساجد 45 (740)، مسند احمد (5/330)، سنن الدارمی/الصلاة 45 (1293) (صحیح)