سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1320
Sunan Ibn Majah 1320
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
171: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ
باب: تہجد (قیام اللیل) دو دو رکعت پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وعَنْ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: " يُصَلِّي مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَافَ الصُّبْحَ أَوْتَرَ بِرَكْعَهٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو دو رکعت پڑھے ، جب طلوع فجر کا ڈر ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1320]
💡 وضاحت:
۱؎: اس ایک رکعت سے ساری نماز جو اس نے پڑھی ہے وتر ہو جائے گی، اور رات کی نماز کبھی وتر میں داخل ہوتی ہے جیسے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سات رکعتیں وتر کی پڑھتے تھے، ان کے بیچ میں نہ سلام پھیرتے تھے، نہ بات کرتے تھے اور کبھی وتر الگ ہوتی ہے جیسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، پانچ رکعتیں ان میں وتر کی ہوتیں، ان میں اخیر میں بیٹھتے، اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے، اور آٹھویں کے بعد بیٹھتے تھے پھر سلام پھیرتے تھے، پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے، تو کل گیارہ رکعتیں ہوئیں، پھر اخیر عمر میں سات رکعتیں وتر کی پڑھنے لگے اور چھٹی یا ساتویں رکعت میں بیٹھتے تھے، اور ایک روایت میں ہے کہ سات رکعتیں پڑھیں، صرف آخری رکعت میں بیٹھے، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان و غیر رمضان میں آٹھ رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے، اور تین وتر کی پڑھتے تو کل گیارہ رکعتیں ہوئیں، ابن حزم کہتے ہیں کہ احادیث میں رات کی نماز وتر سمیت تیرہ آئی ہے، اور ہر طرح سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
حدیث طاوس وسالم: أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین20 (749)، سنن النسائی/قیام اللیل24 (1668)، (تحفة الأشراف: 6830، 7099)، وحدیث عبد اللہ بن دینار عن ابن عمر تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 7176) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوتر 1 (990)، سنن ابی داود/الصلاة 314 (1326)، موطا امام مالک/صلاةاللیل 3 (13)، مسند احمد (2/49، 54، 66)، سنن الدارمی/الصلاة 154 (1499)، 155 (1500) (صحیح)