سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1223
Sunan Ibn Majah 1223
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
139: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْمَرِيضِ
باب: بیمار کی نماز کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كَانَ بِيَ النَّاصُورُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: " صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے ناسور ۱؎ کی بیماری تھی ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے متعلق پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو ، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو ، اور اگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1223]
💡 وضاحت:
۱؎: باء اور نون دونوں کے ساتھ اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے، باسور مقعد کے اندرونی حصہ میں ورم کی بیماری کا نام ہے اور ناسور ایک ایسا خراب زخم ہے کہ جب تک اس میں فاسد مادہ موجود رہے تب تک وہ اچھا نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 179 (952)، سنن الترمذی/الصلاة 158 (372)، (تحفة الأشراف: 10832)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 19 (1117) (صحیح)