سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1237
Sunan Ibn Majah 1237
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
144: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ
باب: امام اس لیے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُونَهُ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے ، تو آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کچھ لوگ آپ کی عیادت کے لیے اندر آئے ، آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ” امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے ، لہٰذا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ، اور جب رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اپنا سر اٹھاؤ ، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1237]
💡 وضاحت:
۱؎: مرض الموت والی روایت سے جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور لوگوں نے کھڑے ہو کر پڑھی، یہ روایت منسوخ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 19 (412)، (تحفة الأشراف: 17067)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 51 (688)، تقصیر الصلاة 17 (1113)، 20 (1119)، سنن ابی داود/الصلاة 69 (605)، مسند احمد (6/114، 169) (صحیح)