سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 820
Sunan Ibn Majah 820
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
5: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ
باب: فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: " قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بِالْمُؤْمِنُونَ فَلَمَّا أَتَى عَلَى ذِكْرِ عِيسَى أَصَابَتْهُ شَرْقَةٌ، فَرَكَعَ"، يَعْنِي: سَعْلَةً.
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز میں «سورۃ مومنون» کی تلاوت فرمائی ، جب اس آیت پہ پہنچے جس میں عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے ، تو آپ کو کھانسی آ گئی ، اور آپ رکوع میں چلے گئے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 820]
💡 وضاحت:
۱؎: اس باب کی احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدار قراءت مختلف بتائی گئی ہے، جس سے حسب موقعہ پڑھنے پر استدلال کیا جا سکتا ہے، آخری حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ پوری سورۃ کا پڑھنا ضروری نہیں، پہلی رکعت میں قراءت طویل کرنا، اور دوسری میں ہلکی کرنا بھی سنت رسول ہے، اور ظاہری فائدہ اس کا یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت رکعت فوت ہونے سے بچ جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 106 (774 تعلیقاً)، صحیح مسلم/الصلاة 35 (455)، سنن ابی داود/الصلاة 89 (649)، سنن النسائی/الافتتاح 76 (1008)، (تحفة الأشراف: 5313)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/411) (صحیح)