سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1257
Sunan Ibn Majah 1257
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
150: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَا إِذَا أَخَّرُوا الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا
باب: جب ائمہ و حکمران نماز میں تاخیر کریں تو کیا کرنا چاہئے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى ، عَنْ أَبِي أُبَيٍّ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ يَعْنِي: عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَيَكُونُ أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا، فَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ تَطَوُّعًا".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عنقریب کچھ ایسے حکمران ہوں گے جو کاموں میں مشغول رہیں گے ، اور وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے ( تو تم وقت پہ نماز پڑھ لو ) اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1257]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 10 (433)، (تحفة الأشراف: 5097)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/384، 387، 2/95، 3/24، 28، 5/315، 329) (صحیح)