سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1256
Sunan Ibn Majah 1256
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
150: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَا إِذَا أَخَّرُوا الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا
باب: جب ائمہ و حکمران نماز میں تاخیر کریں تو کیا کرنا چاہئے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَ الْإِمَامَ يُصَلِّي بِهِمْ فَصَلِّ مَعَهُمْ، وَقَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ، وَإِلَّا فَهِيَ نَافِلَةٌ لَكَ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز اس کے وقت پر پڑھو ، اگر امام کو پاؤ کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہے تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لو ، اگر تم نے نماز نہیں پڑھی ہے تو یہ تمہاری فرض نماز ہو گئی ، ورنہ پھر یہ تمہارے لیے نفل ( سنت ) ہو جائے گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1256]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 41 (648)، سنن ابی داود/الصلاة 10 (431)، سنن الترمذی/الصلاة 15 (176)، (تحفة الأشراف: 11950)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة 2 (779، 780)، 55 (860)، مسند احمد (5/168، 169، 149، 156، 163)، سنن الدارمی/الصلاة 25 (91264) (صحیح)