سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1200
Sunan Ibn Majah 1200
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
127: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ عَلَى الرَّاحِلَةِ
باب: سواری پر وتر پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَتَخَلَّفْتُ، فَأَوْتَرْتُ، فَقَالَ: مَا خَلَفَكَ؟، قُلْتُ: أَوْتَرْتُ، فَقَالَ: أَمَا لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُوتِرُ عَلَى بَعِيرِهِ".
سعید بن یسار کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ، میں پیچھے ہو گیا ، اور نماز وتر ادا کی ، انہوں نے پوچھا : تم پیچھے کیوں رہ گئے ؟ میں نے کہا : میں وتر پڑھ رہا تھا ، انہوں نے کہا : کیا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میں اسوہ حسنہ نہیں ہے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ ہی پر وتر پڑھ لیتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1200]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوتر 5 (999)، تقصیرالصلاة 7 (1095)، 8 (1096)، 12 (1105)، صحیح مسلم/المسافرین 4 (700)، سنن الترمذی/الصلاة 228 (472)، سنن النسائی/قیام اللیل 31 (1689)، (تحفة الأشراف: 7085)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة اللیل 3 (15) مسند احمد (2/57، 138)، سنن الدارمی/الصلاة 213 (1631) (صحیح)