سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1338
Sunan Ibn Majah 1338
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
176: . بَابٌ في حُسْنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ
باب: قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَابِطٍ الْجُمَحِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَبْطَأْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بَعْدَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ: " أَيْنَ كُنْتِ؟"، قُلْتُ: كُنْتُ أَسْتَمِعُ قِرَاءَةَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِكَ، لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَ قِرَاءَتِهِ وَصَوْتِهِ مِنْ أَحَدٍ، قَالَتْ: فَقَامَ، وَقُمْتُ مَعَهُ حَتَّى اسْتَمَعَ لَهُ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقَالَ: " هَذَا سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَ هَذَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک روز میں نے عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے میں دیر کر دی ، جب میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کہاں تھیں ؟ “ میں نے کہا : آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص کی تلاوت سن رہی تھی ، ویسی تلاوت اور ویسی آواز میں نے کسی سے نہیں سنی ، یہ سنتے ہی آپ کھڑے ہوئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی کھڑی ہوئی ، آپ نے اس شخص کی قراءت سنی ، پھر آپ میری جانب متوجہ ہوئے ، اور فرمایا : ” یہ ابوحذیفہ کے غلام سالم ہیں ، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسا شخص پیدا کیا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1338]
💡 وضاحت:
۱؎: سالم مولی ابوحذیفہ مشہور قاری اور خوش آواز تھے، یہ دونوں صفات ایک قاری میں بہت کم جمع ہوتی ہیں، اکثر لوگ خوش آواز تو ہوتے ہیں لیکن تجوید یعنی قواعد قراءت سے ناواقف ہوتے ہیں، اور بعض قاری ہوتے ہیں لیکن ان کی آواز اچھی نہیں ہوتی، نیز حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ عورت کو اجنبی مرد کی آواز سننے میں کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ الوليد بن مسلم لم يصرح بالسماع المسلسل ¤ و في سماع عبد الرحمٰن بن سابط من عائشة رضي اللّٰه عنھا نظر فالسند معلل ¤ و للحديث شواھد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 424
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ، ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16303، ومصباح الزجاجة: 470)، ومسند احمد (6/165) (صحیح)