سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1034
Sunan Ibn Majah 1034
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
65: بَابُ : التَّسْبِيحِ لِلرِّجَالِ فِي الصَّلاَةِ وَالتَّصْفِيقِ لِلنِّسَاءِ
باب: نماز میں (غلطی پر تنبیہ کے لیے) مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( نماز میں جب امام بھول جائے ، تو اس کو یاد دلانے کے لیے ) «سبحان الله» کہنا مردوں کے لیے ہے ، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1034]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام نماز میں بھول جائے، تو مرد «سبحان الله» کہہ کر اسے اس کی اطلاع دیں، اور عورت زبان سے کچھ کہنے کے بجائے دستک دے، اس کی صورت یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ کی دونوں انگلیوں سے اپنی بائیں ہتھیلی پر مارے، کچھ لوگ «سبحان اللہ» کہنے کے بجائے «الله أكبر» کہہ کر امام کو متنبہ کر تے ہیں، یہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العمل في الصلاة 5 (1203)، صحیح مسلم/الصلاة 23 (422)، سنن ابی داود/الصلاة 155 (639)، 173، (939) سنن النسائی/السہو 15 (1208)، (تحفة الأشراف: 15141)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/261، 317، 6 37، 2 43، 440، 3 47، 479، 492، 507)، سنن الدارمی/الصلاة 95 (1403) (صحیح)