سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 948
Sunan Ibn Majah 948
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
38: بَابُ : مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ
باب: کس چیز کے نمازی کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ هُوَ قَاصُّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَت: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي حُجْرَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ، أَوْ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ بِيَدِهِ، فَرَجَعَ، فَمَرَّتْ زَيْنَبُ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَمَضَتْ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: هُنَّ أَغْلَبُ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے حجرہ میں نماز پڑھ رہے تھے ، اتنے میں آپ کے سامنے سے عبداللہ یا عمر بن ابی سلمہ گزرے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا وہ لوٹ گئے ، پھر زینب بنت ام سلمہ گزریں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسی طرح اشارہ کیا مگر وہ سامنے سے گزرتی چلی گئیں ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے ، تو فرمایا : ” یہ عورتیں نہیں مانتیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 948]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اپنی جہالت اور نافہمی کی وجہ سے مردوں پر غالب آ جاتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ أم محمد بن قيس: لم أجد من وثقها ¤ والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 411
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18293، ومصباح الزجاجة: 341)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/294) (ضعیف) (سند میں قیس والد محمد مجہول ہیں، اور بعض نسخوں میں عن أمہ آیا ہے، اور امام مزی نے عن امہ کو معتمد مانا ہے)