سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1185
Sunan Ibn Majah 1185
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ مِنْ أَوَّلِهِ، وَأَوْسَطِهِ، وَانْتَهَى وِتْرُهُ حِينَ مَاتَ فِي السَّحَرِ".
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز وتر کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھا ، کبھی رات کے شروع حصے میں ، کبھی درمیانی حصے میں ، اور وفات کے قریبی ایام میں اپنا وتر صبح صادق کے قریب پڑھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1185]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر کو رات میں مختلف اوقات میں پڑھا ہے، لیکن اخیر عمر میں وتر کو صبح صادق کے قریب پڑھا ہے، تو ایسا ہی کرنا افضل ہے، بالخصوص ان لوگوں کے لئے جو اخیر رات میں تہجد کے لئے اٹھا کرتے ہیں، اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ابتدائی حصہ یا درمیانی حصہ میں پڑھا ہے تو اس سے جواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں امت کے لئے آسانی ہے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 17 (745)، سنن الترمذی/الصلاة 218 (456)، سنن النسائی/قیام اللیل 28 (1682)، (تحفة الأشراف: 17653)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوتر 2 (996)، سنن ابی داود/الصلاة 343 (1435)، مسند احمد (6/129، 204)، سنن الدارمی/الصلا ة 211، (1628) (صحیح)