سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1089
Sunan Ibn Majah 1089
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
80: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1089]
💡 وضاحت:
۱؎: علماء کی ایک جماعت کے نزدیک جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے، اہل ظاہر کا یہی قول ہے، اور جمہور علماء کرام اس کو مستحب اور مسنون کہتے ہیں۔ شیخ الإسلام ابن تیمیہ نے فرمایا ہے کہ اگر آدمی کا جسم اور اس کا لباس صاف ستھرا ہو تو اس کے حق میں یہ غسل مسنون و مستحب ہے، اور جسم اور کپڑوں کے صاف نہ ہونے یا بدن میں بو موجود ہونے کی صورت میں یہ غسل واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 161 (857)، الجمعة 2 (879)، 12 (895)، الشہادات 18 (2665)، صحیح مسلم/الجمعة1 (846)، سنن ابی داود/الطہارة129 (341)، سنن النسائی/الجمعة 6 (1376)، (تحفة الأشراف: 4161)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة 1 (4)، مسند احمد (3/6) سنن الدارمی/الصلاة 190 (1578) (صحیح)